قومی مالیاتی کمیشن

1۔ یوم ِ آغاز سے چھ ماہ کے اندر، اور اس کے بعد ایسے وقفوں سے جو پانچ سال سے متجاوز نہ ہوں ، صدر ایک قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کرئے گا جو وفاقی حکومت کے وزیر مالیات، صوبائی حکومتوں کے وزرائے مالیات اور ایسے دیگر اشخاص پر مشتمل ہوگا جنہیں صدرصوبوں کے گورنروں سے مشورے کے بعد مقرر کرئے۔
2۔ قومی مالیاتی کمیشن کا فرض ہوگا کہ وہ صدر کو حسبِ ذیل کے بار ے میں سفارشات پیش کرئےـــــ
(الف) شق (3) میں مذکورہ محصولات کی محصولات کی خالص آمدنی کی وفاق اور صوبوں کے مابین تقسیم؛
(ب) وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو امدادی رقوم دینا؛
(ج) وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے قرضہ لینے کے ان اختیارات کا استعمال جو از روئے دستور عطا ہوئے ہیں؛ اور
(د) مالیات سے متعلق کوئی اور معاملہ جسے صدر نے کمیشن کو بھیجا ہو۔
3۔ شق (2) کے پیرا (الف) میں محولہ محصولات حسبِ ذیل محصولات ہیں جو مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اختیار کے تحت وصول کئے جاتے ہیں یعنی:-
(اول) آمدنی پر محصولات ، جس میں محصول کارپوریشن شامل ہے لیکن وفاقی مجموعی فنڈ میں سے اداشدہ معاوضے پر مشتمل آمدنی پر محصولات شامل نہیں ہیں؛
(دوم) درآمد شدہ، برآمد شدہ، پیدا کردہ ، مصنوعہ یا صرف شدہ مال کی فروخت اور خرید پر محصول؛
(سوم) کپاس پر برآمدی محصولات اور ایسے دوسرے برآمدی محصولات جن کی صراحت صدر کرئے ؛
(چہارم) آبکاری کے ایسے محصولات جن کی صراحت صدر کرئے ؛ اور
(پنجم) ایسے دوسرے محصولات جن کی صراحت صدر کرئے۔
(3۔الف) قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ سابقہ ایوارڈ میں دیئے گئے حصے سے کم نہ ہوگا۔
(3۔ب) وفاقی وزیر خزانہ اور صوبائی وزرائے خزانہ ایوارڈ کے تعمیل کی نگرانی کریں گے اور ہر ششماہی پر مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)کے دونوں ایوانوں اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔
4۔ قومی مالیاتی کمیشن کی سفارشات موصول ہونے کے بعدجتنی جلد ہوسکے صدر ، فرمان کے ذریعے ، شق (2) کے پیرا (الف) کے تحت کمیشن کی سفارشات کے مطابق، شق(3) میں مذکورہ محاصل کی اصل آمدنی کے اس حصے کی صراحت کرئے گا جو ہر صوبے کے لئے مختص کیا جائے گا، اور وہ حصہ متعلقہ صوبے کی حکومت کو اد اکردیا جائے گا، اور آرٹیکل 78 کے احکام کے باوجود وفاقی مجموعی فنڈ کا حصہ نہیں بنے گا۔
5۔ قومی مالیاتی کمیشن کی سفارشات، ان پر کی جانے والی کاروائی کے بارے میں ایک وضاحتی یا داشت کے ہمراہ دونوں ایوانوں اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
6۔ شق (4) کے تحت کسی فرمان کے صادر کرنے سے پہلے کسی بھی وقت صدر ، فرمان کے ذریعے ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان محاصل کی تقسیم کے بارے میں قانون میں کوئی ایسی ترمیم یا ردوبدل کرسکے گا جسے وہ ضروری یا قرین مصلحت سمجھے۔
7۔ صدر، فرمان کے ذریعے ، امداد کے ضرورت مند صوبوں کے محاصل کے لئے امدادی رقوم دے سکے گا اور ایسی رقوم امدادی وفاقی مجموعی فنڈ سے واجب الادا ہوں گی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.