LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشریات

By Super Admin
ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشریات

1۔ وفاقی حکومت کسی صوبائی حکومت کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشریات کے بارے میں ایسے کار ہائے منصبی سپرد کرنے سے غیر معقول طور پر انکار نہیں کرئے گی جو اس حکومت کےلئے اس غرض سے ضروری ہوں کہ وہـــــــ
(الف) صوبے میں ٹرانسمیٹر تعمیر اور استعمال کرسکے ؛اور
(ب) صوبے میں ٹرانسمیٹر وں کی تعمیر اور استعمال اور موصولی آلات کے استعمال کے بارے میں فیسوں کا انضباط عمل میں لاسکے اور انہیں عائد کرسکے:
مگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں کسی امر سے یہ تعبیر نہیں لی جائے گی کہ یہ وفاقی حکومت کو پابند کرتی ہے کہ وہ ان ٹرانسمیٹروں کے استعمال پر ، جو وفاقی حکومت یا وفاقی حکومت کے مجاز کردہ اشخاص کے تعمیر کردہ یا زیرتحویل ہوں یا اس طرح مجاز کردہ اشخاص کی طرف سے موصولی آلات کے استعمال پر کوئی اختیار کسی صوبائی حکومت کے سپر د کردے۔
2۔ کوئی کارہائے منصبی جو بایں طور کسی صوبائی حکومت کے سپرد کئے گئے ہوں ایسی شرائط کے تابع انجام دیئے جائیں گے جو وفاقی حکومت عائد کرئے، جس میں دستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، مالیات کے بارے میں شرائط شامل ہیں ، لیکن وفاقی حکومت کے لئے کوئی ایسی شرائط عائد کرنا جائز نہ ہوگا جو ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر صوبائی حکومت کی طرف سے یااس کے حکم سے نشر کردہ مواد کو منضبط کرتی ہوں ۔
3۔ ریڈیواور ٹیلی ویژن کی نشریات کے بارے میں کوئی وفاقی قانون ایسا ہوگا جس سے اس امر کا اہتمام ہو کہ اس آرٹیکل کے مذکورہ بالا احکام کو نافذ کیا جا سکے ۔
4۔ اگر کوئی سوال پیدا ہو کہ آیا کوئی شرائط جو کسی صوبائی حکومت پر عائد کی گئی ہیں ، جائز طور پر عائد کی گئی ہیں یا آیا کارہائے منصبی سپرد کرنے سے وفاقی حکومت کا کوئی انکار غیر معقول ہے ، تو اس سوال کا تصفیہ کوئی ثالث کرئے گا جسے چیف جسٹس پاکستان مقرر کرئے گا۔
5۔ اس آرٹیکل میں کسی امر سے یہ مراد نہیں لی جائے گی کہ اس سے پاکستان یا اس کے کسی حصے کے امن یا سکون کو درپیش کسی سنگین خطرے کے انسداد کے لئے دستور کے تحت وفاقی حکومت کے اختیارات کی تحدید ہوتی ہے۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.