آب رسائیوں میں مداخلت کی شکایات

1۔ اگر کسی صوبے ، وفاقی دارالحکومت یا ان کے باشندوں میں سے کسی کے ، کسی قدرتی سرچشمہ آب رسانی سے پانی کے حصول یا منبع کے مفادات پر مندرجہ ذیل امور کی وجہ سے مضر اثر پڑا ہو، یا پڑنے کا امکان ہوـــــــ
(الف) کوئی عاملانہ کا روائی یا قانون سازی جو زیر عمل لائی گئی ہو منظور کیا گیا ہو، یا جس کے زیرِ عمل لائے جانے یا منظور کئے جانے کی تجویز ہو؛ یا
(ب) مذکورہ سرچشمے سے پانی کے استعمال اور تقسیم یا کنٹرول کے سلسلے میں کسی ہیئت مجاز کی طرف سے اپنے اختیارات میں سے کسی کو بروئے کار لانے میں کوتاہی ہوئی ہو، تو وفاقی حکومت یا متعلقہ صوبائی حکومت کونسل سے تحریری طور پر شکایت کرسکے گی۔
2۔ ایسی شکایت موصول ہونے پر کونسل معاملے پر غور کرنے کے بعد یا تو اپنا فیصلہ دے گی یا صدر سے درخواست کرئے گی کہ وہ ایسے اشخاص پر مشتمل ایک کمیشن مقرر کرئے جو آبپاشی، انجینئر ی ، انتظامیہ، مالیات یا قانون کے خصوصی علم و تجربے کو حامل ہوں جنہیں وہ موزوں خیال کرئے ، جس کا حوالہ بعد ازیں کمیشن کے طور پر دیا گیا ہے۔
3۔ تاوقتیکہ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) اس بارے میں قانون کے ذریعے احکام وضع نہ کرئے ، کمیشن ہائے تحقیقات پاکستان ایکٹ، 1956ء کے احکام کا جو یوم آغاز سے عین قبل نافذ العمل تھے کونسل یا کمیشن پر اس طرح اطلاق ہوگا گویا کہ کونسل یا کمیشن ایکٹ کے تحت مقرر کردہ کوئی کمیشن ہو جس پر اس کی دفعہ 5 کے جملہ احکام کا اطلاق ہوتا ہو اور جسے اس کی دفعہ 10الف میں محولہ اختیار تفویض کیا گیا ہو۔
4۔ کمیشن کی رپورٹ اور ضمنی رپورٹ پر اگر کوئی ہو غور کرنے کے بعد کونسل کمیشن کو بھیجے گئے جملہ معاملات پر اپنا فیصلہ قلمبند کرئے گی۔
5۔ اس کے خلاف کسی قانون کے باوجود ، لیکن آرٹیکل 154 کی شق (5) کے احکام کے تابع، وفاقی حکومت اور متنازٰعہ معاملے سے متعلق صوبائی حکومت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ کونسل کے فیصلے کو وفاداری کے ساتھ لفظاََ و معناَنافذ کریں۔
6۔ کسی ایسے معاملے کے بارے میں جو کونسل کے سامنے زیرِ بحث ہو یا رہا ہو معاملہ کے کسی فریق کی تحریک پر یا کسی ایسے معاملے کے بارے میں جو اس آرٹیکل کے تحت کونسل کے سامنے شکایت کا مناسب موضوع فی الوقع ہو، یا رہا ہو یا ہوسکتا ہو یا ہونا چاہیے، کسی بھی شخص کی تحریک پر کسی عدالت کے سامنے کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.