کابینہ

1۔ گورنر کو اس کے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں مدد اور مشورہ دینے کے لئے وزراء کی ایک کابینہ ہوگی، جس کا سربراہ وزیر اعلیٰ ہوگا۔
2۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسمبلی کے عام انتخابات کے اکیس دن بعد ہوگا، تاوقتیکہ اس سے پہلے گورنر اجلاس طلب نہ کرلے۔
3۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کے بعد صوبائی اسمبلی ، کسی بھی دوسری کاروائی کو چھوڑ کر کسی بحث کے بغیر اپنے اراکین میں سے ایک کا وزیراعلیٰ کے طور پر انتخاب کرئے گی۔
4۔ وزیراعلیٰ کو صوبائی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد کی اکثریتی رائے دہی کے ذریعے نامزد کیا جائے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ، اگر کوئی رکن پہلی رائے شماری میں مذکورہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو پہلی رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پہلے دو اراکین کے درمیان میں دوسری رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا اور وہ رکن جو موجوداراکین کی اکثریت رائے دہی حاصل کر لیتا ہے اس کا منتخب وزیراعلیٰ کے طور پر اعلان کیا جائے گا:
مزید شرط یہ ہے کہ، اگر دو یا اس سے زائد اراکین کی جانب سے حاصل کردہ ووٹ کی تعداد مساوی ہوجائے تو ، ان کے درمیان مزیدرائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا تاوقتیکہ ان میں سے کوئی ایک سب سے زیادہ حق رائے دہی حاصل نہ کرلے۔
5۔ شق (4) کے تحت نامزد رکن کو گورنر کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کی دعوت دی جائے گی اور وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے ، تیسرے جدول میں بیان کردہ طریقہ کار میں گورنر کے روبرو حلف اٹھائے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کےلیے میعاد کی تعداد پر پابندی نہیں ہوگی۔
6۔ کابینہ اجتماعی طور پر صوبائی اسمبلی کو جواب دہ ہوگی اور کابینہ کی کل تعداد پندرہ اراکین یا صوبائی اسمبلی کے کل اراکین کے گیارہ فی صد سے زائد نہیں ہوگی، جو بھی زائد ہو:
مگر شرط یہ ہے کہ مذکورہ بالا حد اگلے عام انتخابات سے دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ 2010ء کے آغازِ نفاذ کے بعد موئثر ہوگی۔
7۔ وزیراعلیٰ گورنر کی خوشنودی کے دوران عہدے پر فائز رہے گا، لیکن گورنر اس شق کے تحت اپنے اختیارات استعمال نہیں کرئے گا تاوقتیکہ اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ وزیر اعلیٰ کو صوبائی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے ایسی صورت میں وہ صوبائی اسمبلی کو طلب کرئے گا اور وزیراعلیٰ کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا حکم دےگا۔
8۔ وزیراعلیٰ ، گورنر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکے گا۔
9۔ کوئی وزیر جو مسلسل چھ ماہ کی مدت کے لیے صوبائی اسمبلی کا رکن نہ رہے ، مذکورہ مدت کے اختتام پر وزیر نہیں رہے گا اور مذکورہ اسمبلی کے تحلیل ہوجانے سے قبل دوبارہ وزیر مقرر نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ وہ اس اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہوجائے۔
10۔ اس آرٹیکل میں شامل کسی امر کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ یا کسی دوسرے وزیر کو کسی ایسی مدت کے دوران جبکہ صوبائی اسمبلی تحلیل کردی گئی ہو، اپنے عہدے پربرقرار رہنے کا نا اہل قرار دیا جائے یا نہ ہی اس کی رو سے کسی ایسی مدت کے دوران کسی شخص کو بطور وزیراعلیٰ یا دیگر وزیر مقرر کرنے کی ممانعت ہوگی۔
11۔ وزیراعلیٰ پانچ سے زائد مشیران کا تقرر نہ کرسکے گا۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.