وعدہ معاف گواہ

وعدہ معاف گواہ سی آر پی سی کی جوسیکشن ہے جو دفعات ہے337،338،339 اس کو ڈیل کرتی ہیں ۔ 1- معافی کی پیش کش کس کو کی جاسکتی ہے؟ اور 2- معافی کی پیشکش کن جرائم میں کی جاسکتی ہے؟ یہ پیشکش ہر اس ٹرائل میں جو ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ کررہی ہو اس میں یعنی کہ جرم ہے جرم کی دائرہ کاروہ یا ہائی کورٹ کے پاس ہے یا سیشن کورٹ کے پاس ہے یا جس کی سزا دس سال تک ہے یا جس کی سزا سات تک سال ہے جس میں 216 اے369، 401،435اور477 اے اب کیوں دی جاتی ہے پیشکش پورا ہمراہی ملزم کو جب آپ کے پاس ثبوت کی کمی ہے آپ کے پاس ثبوت نہیں موجود ایک بندہ قتل ہوا ہے نہیں پتا کو ن کرگیا کیسے کرگیا؟تعریف ہے انھوں نے کروایا ہوگا ۔ زخمی کرگیا نہیں پتا چل رہاکہ کون کرگیا اورکس نے کروایا ۔ اب 337کے تحت سی آر پی سی ضابطہ فوجداری کے تحت ان لوگوں کو پارڈرن ٹینڈر کیا جاتا ہے ہمراہی ملزمان کو کس بنیاد پے؟ کہ وہ تمام مکمل حقائق عدالت کو بتائیں گے337کے تحت تفتیش یا انکوئری کے دوران یہ پیشکش کی جاسکتی ہے ۔ شرط وہی ہے کہ مکمل سچ انکشاف اورتمام خطوط کا جو اس کے نالج میں ہے اور جو اس جرم کے سرزد ہونے میں شامل ہیں اس سے متعلقہ ہیں اور ہر اس شخص کا نام بتائے گا جو اس میں شامل ہے خواہ وہ پرنسپل ملزم ہو خواہ وہ ثالثی ہو ۔ اب یہاں پے 337 میں ایک کدگن آگیا کدگن یہ آگیا کہ جو زخمی اورقتل کے مقدمے ہیں جو زخمون سے متعلقہ اور جو قتل کے کیس ہیں اس میں پارڈن اپنے طور پر کوئی نہیں پیشکش کرسکتا اس میں اس مظلوم کی خواہ وہ زخمی ہے یا مظلوم کے قانونی وارث کی اگر وہ قتل ہوگیا ہے اگر تحریری طور پر اجازت نامہ لیا جائے گا ان سے اور پھر کسی شخص کو پارڈن کی معافی کی پیشکش کی جائے گی ۔ اب جب کسی شخص کو دیکھا جاتا ہے کہ اس کے پاس حقائق پورے ہیں گمان ہے فرض کیا جاتا کہ اس کے پاس پورے حقائق موجو دہے تو پھراس کو ایک پوری تحریری طور پر سمری بنا کر دی جاتی ہے کہ اس جرم کی کمیشن میں ہمارے پاس یہ کمی ہے اگر اوریجنل حالات و واقعایات نالج آپ بتاد وگے تو ہم آ پ کو وعدہ معاف گواہ بنا لیں گے اس مقدمے میں وہ ملزم ہے نہ اس کے خلاف براہ راست ثبوت موجودہے یا چین پریشان ہے نہ ہمراہی ملزمان کا پتا ہے اور اگر پتا ہے تو چین نہیں ہے اس چین کو بنانے کے لئے یا اس انکشاف کو کرنے کے لئے پورا کرنے کے لئے وہ اس کو پارڈن ٹینڈر کرتے ہیں ۔ 1- معافی نامہ تحریری ہونا چاہیے جو ملزم کو حوالے کیا جائے یا ملزم کے دستخط کئے جائیں وہ پیشکش تحریری ہونی چاہیے ۔ 2- اس پیشکش کو وہ قبول کرئے کہ میں نے وہ پیشکش میں قبول کرلی ہے ۔ 3- جب وہ مجسٹریٹ کے سامنے 337،338،339 کے تحت اپنے بیان ریکارڈ کروا رہا ہے تو مجسٹریٹ صرف یہ نہ لکھ دے کہ ہاں ہوگیا پارڈن ہوگئی بیان ہوگئی نہیں وجوہات بیان کرئے ۔ مجسٹریٹ فائل کو دیکھے گافائل کو دیکھنے کے بعد پڑھے گا پڑھنے کے بعد پورا چھان بین کرئے گا انتظار کرئے گا انتظار کرنے بعد اگر وہ سمجھتا ہے کہ ہاں اگر یہ شخص حقیقی حقائق انکشاف دے دیتا ہے اور نہ صرف وہ سچ بتائے گا بلکہ مکمل سچ بتائے گا آدھا سچ نہیں بتائے گا پھر مکمل سچ بتائے گا اور مکمل سچ بتانے کے بعد جب وہ اس کیس کی نوعیت چینج ہوجائے گی ۔ اب مجسٹریٹ نے اس چیز کو بھی پرکھنا ہے کہ اگر یہ مکمل سچ بتا تا ہے یہ شخص توپھر یہ ملزم کے کے خانے سے نکل کے بطور استغاثہ کی گواہی یہ عدالت میں پیش ہوگا تو کیا وہ اس کسوٹی پے پورا اترتا ہے اگر اس کو پارڈن ٹینڈر کیا جائے اگر اسکو وعدہ معاف گواہ بنایا جائے کہ یہ بطور گواہ پورا کھڑا ہوگا یہ تسلی کرنے کے بعد اس کا بیان لکھے گا جب اس کا بیان لکھ لے گا تو پھر اس ملزم کی حیثیت گواہ کی ہوجائے گا پھر ٹرائل کے دوران وہ گواہ ٹرائل میں پیش ہوگا اور باقی ملزمان کو جو اس کے انکشاف پے ملزم بنے ان کو پورا حق ہوگا کہ اسکے اوپر پوری جانچ پڑتال کریں ۔ 4-مجسٹریٹ اس کو یہ بھی بتائے گا کہ بھئی تمھیں یہ پارڈن ٹینڈر کیا جارہا ہے اگر تم نے مکمل سچ بتا دیا اور وہ مماصلت اختیار کر گیا باقی حقائق کے ساتھ تو تمھیں جب تک اس ٹرائل کا فیصلہ نہیں ہوگا تمھیں جیل کے اندر رکھا جائے گا تم جیل کے اندر رہوگے حکمت کیا ہے وہ بعد کی بات ہے کہتے ہیں تو ابھی بتا دیتا ہوں اس کے نیچے حکمت اس کا تحفظ ہے لیکن یہ سخت اور تیز اصول نہیں ہے ان کی رعایت موجود ہیں یہ نہیں ہے کہ جناب کسی کو پارڈن ٹینڈ ر کیا گیا اس کا بیان ہوگئی اس کو قبول کرلیا گیا تو وہ ساری زندگی جیل میں ہی رہے جب تک ٹرائل نہیں ہوگا نہیں رعایت موجودہیں کہ ٹرائل لینتھی ہورہا ہے تاخیر ہورہا ہے معاملات ایسے ہیں وہ بیمار ہے کچھ بھی ہوسکتا ہے باہر بھی آسکتا ہے لیکن بنیاد یہ ہے کہ وہ اندر رہے گا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تفتیش کے دوران اور ٹرائل کے دوران ہی پارڈن ٹینڈر کیا جاسکتا ہے اس سوال کا جواب ہے نہیں ٹرائل کے دوران بھی پارڈن ٹینڈر کیا جاسکتا ہے اگر ٹرائل کو طرز عمل کرنے والا جج پریزائیڈنگ آفیسر جج جو ہے اگر وہ سمجھے جو واقعایات سامنے آرہے ہیں ان میں ایک ایسا بندہ ہے اگر یہ پورے درست حقائق بتا دے تو اس کیس کے اصل حقائق سامنے آجائیں گے اور فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی انصاف کے مطابق اب ایک کدگن آجاتا ہے قانونی قانون شہادت کہتا ہے کہ شریک کی وجہ سے بیان شریک کی وجہ کے خلاف ناقا بل تسخیر ثبوت ہے ۔ اب اپروور نے جا کے بیان دے دیا پارڈن قبول کرلیا وعدہ معاف گواہ بن گیا اب ایک ملزم نے اس پارڈن کو چیلنج کردیا ۔ انھوں نے کہا جی کہ ہ میں اس ملزم کے بیان پے ملزم بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اس نے اپنی جان بچانے کے لئے سارا ملبہ ہم پے تھوپ دیا اب اس میں کورٹس کا کیا ویو ہے؟ میں آپ کو فیصلے بھی بتائے دیتا ہوں کورٹس کا ویو یہ ہے کہ اس ملزم کے بیان پے صرف آپ کوالزام کیا گیا ہے ہے آپ پے الزام لگا ہے کیونکہ اب وہ ملزم نہیں رہا وہ گواہ کی شکل اختیار کرگیا ہے تو آپ ایسا ہی سمجھے کے وہ آپ کے خلاف ایک گواہ ہے اور گواہ جب ٹرائل کے دوران پیش ہوگا تو آپ کو اس پے جراح کرنے کا مکمل حق ہوگا اسلئے آ پ کو کوئی تعصب نہیں ہے آپ کی حق تلفی کوئی نہیں ہورہی آپ کے ساتھ نا انصافی نہیں ہورہی 1- 2005وائے ایل آر صفحہ 1728 2- 2016 پی سی آر ایل جے(پاکستان پینل لاء جنرل) صفحہ 714 لاہور ہائی کورٹ لاہور ۔ ا س میں یہ ہولڈ کردیا گیا کہ صرف وعدہ معاف گواہ کے بیان پے کسی کو سزا نہیں ہونی وعدہ معاف گواہ کا دیا گیا بیان اگر مماصلت نہیں رکھتا اگر اصلاحی نہیں ہوتا دیگر آزاد ثبوت کے ساتھ دیگر آزاد ثبوت کے ساتھ توصرف اس کا بیان پے نہیں ہوگاعدالت سارا کچھ دیکھے گی اس کو پرکھے گی اسکی صداقت کو پرکھے گی ۔ اب اس میں کچھ امبڈیوٹیز آجاتی ہے اس کو بھی کورٹس نے ازالہ کیا اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اپروور جو ہے جس کو پارڈن ٹینڈر کیا گیا ہے فرض کریں یکم جنوری 2018 میں اس شخص کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ جناب اس کو پارڈن ٹینڈر کیا گیا ہے اس نے قبول کرلیا ہے مجسٹریٹ اپنی تسلی کرتا ہے تسلی کرنے کے بعد اس کا بیان لکھ لیتا ہے اس کے بعد کا مرحلے میں بعد میں یہ بات منظر عام پے آتی ہے کہ یہ شخص اکتوبر 2017 سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تحویل میں ہے اکتوبر 2017 میں یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تحویل میں ہے اور یکم جنوری 2018کو اس کو پارڈن ٹینڈر کیا گیا اور اس نے اپروور بننے کی جو ہے نہ وہ آفر قبول کرلی تو اپروور کا بیان ختم اپروور کہیں نہیں کھڑا ہوتا اس کی بیان کو ڈسٹ بین میں پھینک دیا جائے گا کوئی عدالت اس کے اوپر اعتماد نہیں کرئے گی کیونکہ یہ ثابت ہوگیا کہ جب اس نے پارڈن ٹینڈر کیا تھا استغاثہ نے تو اس نے اس کو قبول کیا اس سے پہلے وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تحویل میں تھا تو اسلئے سوال جو ہے مارکٹائی، کا جھگڑے کا، دباءو کا ، بلیک میلنگ کا، دھمکیوں کا، جان سے ماردینے کی دھمکیوں کا، خاندان تباہ کردینے کی دھمکیوں کا اس سے ہم نظر نہیں چرا سکتے ۔ اس لئے اس کا بیان نہیں تصور کی جائے گی درست پھر جب وہ اپرووربن جائے گا اسکا بیان لکھا جائے گا تواسکا ٹرائل علیحدہ کردیا جائے گا ٹرائل چلے گا اس کا لیکن اس کو اس سے علیحدہ کردیا جائے گا اس اہم ٹرائل سے اس کو علیحدہ کردیا جائے گا باقی ملزمان کی حد تک ٹرائل چلے گا اگر ٹرائل کی اپروور کے بیان کوپکا تصورکر لیا جائے گا اس کو سچائی جو ہے نہ وہ مل جائے گی اس کی بیان کو تو پھر تو ٹھیک ہے پھر تو وہ اس میں بری پھر تو وہ بری کیونکہ وہ وعدہ معاف گواہ بن گیا اس کے بیان کے بغیر سزا ممکن نہیں تھی اس نے جو بیان دیا وہ حوصلہ افزاء ہے ۔ اب حوصلہ افزاء کیاہے؟میں چھوٹی سی مثال دے دیتا ہوں حوصلہ افزاء یہ ہے کہ اے قتل ہوجاتا ہے اے کے ادھر فائر لگتا ہے ادھر نکل جاتا ہے ادھر فائر لگتا ہے پیچھے سے نکل جاتا ہے اسکی ڈیتھ ہوجاتی ہے اب کسی کو کچھ نہیں پتا کہ کس نے فائر کئے؟فرض کیا ہے مفروضہ آتا ہے کہ بی کو پتا ہے کہ اے کو کس نے فائر مارے ہیں ۔ اب بی کو کہا جاتا ہے کہ جناب اگر آپ اصل حقائق بتا دیں گے تو آپ کو وعدہ معاف گواہ بنا لیا جائے گا بی کیسے پکڑا گیا؟ کہ مرنے والے کی کچھ چیزیں اس کے گھر سے مل گئیں اب بی کچھ نہیں بتا رہا وہ کہہ رہا ہے کہ ہاں میرے گھر میں ہے میں نے نہیں بتانا کہ یہ میرے گھر میں کیسے پہنچی؟ کیونکہ اب ایک سول فیکٹر پے مجھے سزائے موت تو نہیں ہو سکتی کہ مرنے والے کی کچھ چیزیں میرے گھر سے ملی تھیں ۔ اس لئے اب اپروورکے بیان کو پڑھا جائے گا اپروور کا بیان کیسے پڑھا جائے گا؟ وہ کہتا ہے زی پیچھے سے آیا تھا ا س نے فائر مارا اس کے ادھر سے نکلا ادھر سے لگا تو ادھر سے نکل گیا یعنی کہ وہ کہتا کہ جناب اس ہاتھ سے آیا ادھر سے مارا ادھر سنے نکل گیا پیچھے سے آیا اس نے کمر سے مارا اور ادھر سے نکل گیا اب حوصلہ افزاء نہیں ہے اس کے بیان میں کیونکہ مرنے والے کو ادھر فائر لگا ادھر سے نکل گیا اس کو ادھر فائر لگا پیچھے سے نکلا اس لئے اپروور کے بیان کو نہیں مانا جائے گا ۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.