LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

کابینہ

By Super Admin
کابینہ

1۔ صدر کو اس کے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں مدد اور مشورہ دینے کے لئے وزراء کی ایک کابینہ ہوگی جس کا سربراہ وزیراعظم ہوگا۔
2۔ قومی اسمبلی کا اجلاس قومی اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کے بعد اکیسویں دن ہوگا، تاوقتیکہ اس سے پہلے صدر اجلاس طلب نہ کرلے۔
3۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کے بعد قومی اسمبلی کسی بھی دوسری کا روائی کو چھوڑ کر کسی بحث کے بغیر ، اپنے مسلم اراکین میں سے ایک کا وزیراعظم کے طور پر انتخاب کرئے گی۔
4۔ وزیراعظم قومی اسمبلی کے کل اراکین کے تعداد کی اکثریت رائے دہی کے ذریعے نامزد کیا جائے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ ، اگر کوئی رکن پہلی رائے شماری میں مذکورہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو پہلی رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پہلے دو اراکین کے درمیان میں دوسری رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا اور وہ رکن جو موجود اراکین کی اکثریت رائے دہی حاصل کرلیتا ہے اس کا منتخب وزیراعظم کے طور پر اعلان کیا جائے گا:
مزید شرط یہ ہے کہ ، اگر دو یا اس سے زائد اراکین کی جانب سے حاصل کردہ ووٹ کی تعداد مساوی ہوجائے تو ان کے درمیان مزید رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا تاوقتیکہ ان میں سے کوئی ایک سب سے زیادہ حق رائے دہی حاصل نہ کرلے۔
5۔ شق (4) کے تحت نامزد رکن کو صدر کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کی دعوت دی جائے گی اور وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے ، تیسرے جدول میں بیان کردہ طریقہ کا رمیں صدر کی روبرو حلف اٹھائے گا:
مگرشرط یہ ہے کہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے لیے میعاد کی تعداد پر پابندی نہیں ہوگی۔
6۔ کابینہ مع وزرائے مملکت اجتماعی طور پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کو جواب دہ ہوگی۔
7۔ وزیر اعظم صدر کی خوشنودی کے دوران عہدے پر فائز رہے گا لیکن صدر اس شق کے تحت اپنے اختیارات استعمال نہیں کرئے گا تاوقتیکہ اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے جس صورت میں وہ قومی اسمبلی کا طلب کرئے گا اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا حکم دے گا۔
8۔ وزیر اعظم ، صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے استعفی دے سکے گا۔
9۔ کوئی وزیر جو مسلسل چھ ماہ کی مدت تک قومی اسمبلی کا رکن نہ رہے ، مذکورہ مدت کے اختتام پر وزیر نہیں رہے گا اور مذکورہ اسمبلی کے توڑے جانے سے قبل اسے دوبارہ وزیر مقرر نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ وہ اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہوجائے:
مگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں شامل کسی امر کا ایسے وزیر پر اطلاق نہیں ہوگا جو سینیٹ کارکن ہو۔
10۔ اس آرٹیکل میں شامل کسی امر کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ وزیراعظم یا کسی دوسرے وزیر یا وزیر مملکت کو کسی ایسی مدت کے دوران جبکہ قومی اسمبلی تحلیل کردی گئی ہواپنے عہدے پر برقرارر رہنے کا نا اہل قرار دے دیا جائے اور نہ ہی اس کی رو سے کسی ایسی مدت کے دوران کسی شخص کو بطور وزیراعظم یا دیگر وزیر یا بطور وزیر مملکت مقرر کرنے کی ممانعت ہوگی۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.