آرڈیننس ( صدر کا آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار)

1۔ صدر ، سوائے جبکہ سینیٹ یا قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہو، اگر اس بارے میں متمئن ہو کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کاروائی ضروری ہوگئی ہے تو وہ حالات کے تقاضے کے مطابق آرڈیننس وضع اور نافذ کرسکے گا۔
2۔ اس آرٹیکل کے تحت نافذ کردہ کوئی آرڈیننس وہی قوت و اثر رکھے گا جو مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کا ہوتاہے اور ویسی ہی پابندیوں کے تابع ہوگا جو مجلس شوریٰ
(پارلیمنٹ ) کے اختیار قانون سازی پر عائد ہوتی ہیں لیکن ایسے ہر آرڈیننس کوـــــ
(الف) پیش کیا جائے گاـــــــــ
(اول) قومی اسمبلی کے سامنے اگر اس میں آرٹیکل 73 کی شق(2) میں مصرحہ معاملات میں سے سب یا کسی سے متعلق احکام شامل ہوں اور وہ اپنے نفاذ سے( ایک سو بیس دن) کے اختتام پر یا اگر اسمبلی اس مدت کے اختتام سے قبل اس کی نا منظوری کی قرار داد پاس کر دے تو اس قرارداد کے پاس ہوجانے پر ، منسوخ قرار پائے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ قومی اسمبلی قرار داد کے ذریعے آرڈیننس کی مزید ایک سو بیس یوم تک توسیع کرسکے گا اورا س توسیع شدہ مدت کے اختتام پر اس کو منسوخ سمجھا جائے گا یا اگر اسمبلی اس مدت کے اختتام سے قبل اس کی نامنظوری کی قرارداد پاس کردے تو اس قرارداد کے پاس ہوجانے پر منسوخ متصورکیا جائے گا:
مزید شرط یہ ہے کہ مزید مدت کے لیے توسیع ایک مرتبہ دی جائے گی۔
(دوم) دونوں ایونوں کے سامنے اگر اس میں (ذیلی پیرا (اول) میں محولہ معاملات میں سے کسی سے متعلق احکام شامل نہ ہوں ) اور وہ اپنے نفاذ سے (ایک سو بیس دن) کے اختتام پر یا اگر دونوں میں سے کوئی ایوان اس مدت کے اختتام سے قبل نامنظوری کی قرار داد پاس کردے تو اس قرار داد کے پاس ہوجانے پر منسوخ قرار پائے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ کوئی بھی ایوان قرار داد کے ذریعے اس کو مزید ایک سو بیس دن کے لیے توسیع کرسکے گا اور اس توسیع شدہ مدت کے اختتام پر اس کو منسوخ سمجھا جائے گا، یا اگر ایوان اس مدت کے اختتام سے قبل اس کی نامنظوری کی قرار داد پاس کردے تو اس قرارداد کے پاس ہوجانے پر اس کو منسوخ متصور کیا جائے گا:
مزید شرط یہ ہے کہ مزید مدت کے لیے توسیع ایک مرتبہ دی جائے گی ؛ اور
(ب) صدر کی جانب سے کسی وقت بھی واپس لیا جاسکے گا۔
3۔ شق (2) کے احکامات سے متناقص ہوئے بغیر،۔
(الف) شق (2) کے پیراگراف (الف) کے ذیلی پیراگراف (اول) کے تحت آرڈیننس قومی اسمبلی میں متعارف کردہ بل متصور ہوگا؛ اور
(ب) شق (2) کے پیراگراف (الف) کے ذیلی پیرا گراف (دوم) کے تحت دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کردہ کوئی بھی آرڈیننس ایوان میں متعارف کردہ بل متصور ہوگا جبکہ یہ پہلی دفعہ پیش کیا گیا تھا۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.