بلوں کے لئے صدر کی منظوری

1۔ جب کوئی بل منظوری کے لئے صدر کو پیش کیا جائے، تو صدر دس دن کے اندر،
(الف) بل کی منظوری دے دے گا؛یا
(ب) کسی ایسے بل کی صورت میں جو مالی بل نہ ہو ، بل کو اس پیغام کے ساتھ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں واپس کردے گا کہ بل پر، یا اس کے کسی مصرحہ حکم پر ، دوبارہ غور کیا جائے اور یہ کہ پیغام میں مصرحہ کسی ترمیم پر غور کیا جائے۔
2۔ جبکہ صدر نے کوئی بل مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)کو واپس بھیج دیا ہو، تو اس پر مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) مشترکہ اجلاس میں دوبارہ غور کرئے گی اور اگر اسے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ، دونوں ایوانوں کے موجود ارکان کی اکثریت رائے دہی اور رائے شماری سے ترمیم کے ساتھ یا بلا ترمیم دوبارہ منظور کرلے، تو اسے دستور کی اغراض کے لئے دونوں ایونوں کی طرف سے منظور شدہ تصور کیا جائے گا اور اسے صدر کو پیش کیا جائے گا اور صدر اس کی منظوری دس دنوں میں دے گا، اس میں ناکامی پر مذکورہ منظوری دی گئی متصور ہوگی۔
3۔ جبکہ صدر نے کسی بل کی منظوری دے دی ہو یا لی گئی منظوری متصور ہوگی تو وہ قانون بن جائے گا اور مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا ایکٹ کہلائے گا۔
4۔ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا کوئی ایکٹ اور کسی ایسے ایکٹ کا کوئی حکم ، محض اس وجہ سے باطل نہیں ہوگا کہ دستور کے تحت مطلوبہ کوئی سفارش ، ما قبل منظوری یا رضا مندی نہیں دی گئی تھی، اگر مذکورہ ایکٹ کی دستور کے مطابق منظوری دی گئی ہو۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.