LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کی رکنیت کیلئے نا اہلیت

By Super Admin
مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کی رکنیت کیلئے نا اہلیت

1۔ کوئی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کےرکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن رہنے کے لئے نا اہل ہوگا، اگر،۔۔۔۔۔
(الف) وہ فاتر العقل ہو اور کسی مجاز عدالت کی طرف سے ایسا قرار دیا گیا ہو؛ یا
(ب) وہ غیر برات یافتہ دیوالیہ ہو؛ یا
(ج) وہ پاکستان کا شہری نہ رہے، یا کسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرئے ؛ یا
(د) وہ پاکستان کی ملازمت میں کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو ماسوائے ایسے عہدے کے جسے قانون کے ذریعے ایسا عہدہ قرار دیا گیا ہو جس پر فائز شخص نااہل نہیں ہوتا؛ یا
(ہ) وہ کسی آئینی ہئیت یا کسی ایسی ہئیت کی ملازمت میں ہو جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیر نگرانی ہو یا جس میں حکومت تعدیلی حصہ یا مفاد رکھتی ہو؛ یا
(و) شہریت پاکستان ایکٹ ، 1951ء (نمبر2 بابت 1951ء ) کی دفعہ 4اب کی دجہ سے پاکستان کا شہری ہوتے ہوئے اسے آزاد جموں و کشمیر میں نافذ العمل کسی قانون کے تحت آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے لئے فی الوقت نا اہل قرار دیدیا گیا ہو؛ یا
(ز) وہ کسی مجاز سماعت عدالت کی طرف سے کسی ایسی رائے کی تشہیر کے لیے سزا یاب رہ چکاہو، یا کسی ایسے طریقے پر عمل کر رہا ہو جو نظر یہ پاکستان یا پاکستان کے اقتدار اعلیٰ، سالمیت یا سلامتی یا پاکستان کی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی کے لئے مضر ہو ، یا جو پاکستان کی عدلیہ یا مسلح افواج کو بدنام کرئے یا اس کی تضحیک کا باعث ہو، تاوقتیکہ اس کو رہا ہوئے پانچ سال کی مدت نہ گزر گئی ہو؛ یا
(ح) اسے کسی بھی اخلاقی پستی کے جرم میں ملوث ہونے پر کم از کم دوسال کی سزائے قید سنائی گئ ہو، تاوقتیکہ اس کو رہا ہوئے پانچ سال کا عرصہ نہ گزر گیا ہو؛ یا
(ط) وہ پاکستان کی ملازمت یا وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت یا کسی مقامی حکومت کی طرف سے قائم کردہ یا اس کے زیرِ اختیار کسی کارپوریشن یا دفتر کی ملازمت سے غلط روی کی بناء پر برطرف کر دیا گیا ہو، تاوقتیکہ اس کی برطرفی سے پانچ سال کا عرصہ نہ گزر گیا ہو؛ یا
(ی) وہ پاکستان کی ملازمت یا وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت یا کسی مقامی حکومت کی طرف سے قائم کردہ یا اس کے زیرِ اختیار کسی کارپوریشن یا دفتر کی ملازمت سے غلط روی کی بناء پر ہٹایا گیا ہو یا جبری طور پر فارغ الخدمت کردیا گیاہو؛ تاوقتیکہ اس کو ہٹانے یا جبری طور پر فارغ الخدمتی کرنے سے تین سال کا عرصہ نہ گزر گیا ہو؛ یا
(ک) وہ پاکستان کی یا کسی آئینی ہئیت یا کسی ہئیت کی جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیر نگرانی ہو یا جس میں حکومت کوئی تعدیلی حصہ یا مفاد رکھتی ہو، ملازمت میں رہ چکا ہو، تاوقتیکہ اس کی مذکورہ ملازمت ختم ہوئے دو سال کی مدت نہ گزر گئی ہو؛ یا
(ل) وہ ، خواہ بذات خود یا اس کے مفاد میں یا اس کے فائدے کے لئے یا اس کے حساب میں یا کسی ہندو غیر منقسم خاندان کے رکن کے طور پر کسی شخص یا اشخاص کی جماعت کے ذریعے ، کسی معاہدے میں کوئی حصہ یا مفاد رکھتا ہو، جو کسی انجمن امداد باہمی اور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو، جو حکومت کو مال فراہم کرنے کے لئے یا اس کے ساتھ کئے ہوئے کسی معاہدے کی تکمیل یا خدمات کی انجام دہی کے لئے ہو:
مگر شرط یہ ہے کہ اس پیرے کے تحت نا اہلیت کا اطلاق کسی شخص پر نہیں ہو گا۔۔۔
(اول) جبکہ معاہدے میں حصہ یا مفاد اس کی وراثت یا جانشینی کے ذریعے یا موصٰی لٰہ، وصی یا مہتمم ترکہ کے طور پر منتقل ہوا ہو، جب تک اس کو اس کے اس طور پر منتقل ہونے کے بعد چھ ماہ کا عرصہ نہ گزر جائے؛
(دوم) جبکہ معاہدہ کمپنیات آرڈیننس ، 1984ء (نمبر47 مجریہ 1984ء ) میں تعریف کردہ کسی ایسی کمپنی عامہ نے کیا ہو یا اس کی طرف سے کیا گیا ہو جس کا وہ حصہ دار ہو لیکن کمپنی کے تحت کسی منفعت بخش عہدے پر فائز مختار انتظامی نہ ہو؛ یا
(سوم) جبکہ وہ ایک غیر منقسم ہندو خاندان کافر دہو اور اس معاہدے میں ، جو اُس خاندان کے کسی دیگر فرد نے علیحدہ کا روبار کے دوران کیا ہو، کوئی حصہ یا مفاد نہ رکھتا ہو؛
تشریخ۔ اس آرٹیکل میں "مال" میں زرعی پیدا وار یا جنس جو اس نے کاشت یا پیدا کی ہو یا ایسا مال شامل نہیں ہے جسے فراہم کرنا اس پر حکومت کی کسی بھی ہدایت یا فی الوقت نافذ العمل کسی بھی قانون کے تحت فرض ہو یا وہ اس کے لئے پابند ہو؛ یا
(م) وہ پاکستان کی ملازمت میں حسب ذیل عہدوں کے علاوہ کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو یعنی:-
(اول) کوئی عہدہ جو کل وقتی عہدہ نہ ہو جس کا معاوضہ یا تو تنخواہ کے ذریعے یا فیس کے ذریعے ملتا ہو؛
(دوم) نمبر دار کا عہدہ خواہ اس نام سے یا کسی دوسرے نام سے موسوم ہو؛
(سوم) قومی رضا کار؛
(چہارم) کوئی عہدہ جس پر فائز شخص ، مذکورہ عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے کسی فوج کی تشکیل یا قیام کا حکم وضع کرنے والے کسی قانون کے تحت فوجی تربیت یا فوجی ملازمت کے لئے طلب کئے جانے کا مستوجب ہو؛ یا
(ن) اس نے کسی بنک، مالیاتی ادارے ، کوآپریٹو سوسائٹی یا کوآپریٹو ادارے سے اپنے نام سے یا اپنے خاوند یا بیوی یا اپنے زیرِ کفالت کسی شخص کے نام سے دو ملین روپے یا اس سے زیادہ رقم کا قرضہ حاصل کیا ہو جو مقررہ تاریخ سے ایک سال سے زیادہ عرصے کے لئے غیر ادا شدہ رہے یا اس نے مذکورہ قرضہ معاف کرالیا ہو؛ یا
(س) اس نے یا اس کےخاوند یا بیوی نے یا اس کے زیرِ کفالت کسی شخص نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرتے وقت چھ ماہ سے زیادہ کے لئے دس ہزار روپے سے زائد رقم کے سرکاری واجبات اور یوٹیلٹی اخراجات بشمول ٹیلیفون ، بجلی، گیس اور پانی کے اخراجات ادا نہ کئے ہوں؛ یا
(ع) وہ فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت فی الوقت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )یا کسی صوبائی اسمبلی کارکن منتخب کئے جانے یا چنے جانے کا نا اہل ہو۔
تشریح۔ اس پیرا کی اغراض کے لیے "قانون" میں آرٹیکل 89 یا آرٹیکل 128 کے تحت جاری کردہ کوئی آرڈیننس شامل نہیں ہوگا۔
2۔ اگر کوئی سوال اٹھے کہ آیا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کا کوئی رکن ، رکن رہنے کے لئے نا اہل ہوگیا ہے، تو اسپیکر یا ، جیسی بھی صورت ہو، چیئرمین ، تاوقتیکہ وہ فیصلہ کرئے کہ مذکورہ کوئی سوال پیدا نہیں ہوا، اس سوال کو ، مذکورہ سوال پیدا ہونے سے تیس دن کے اندر، الیکشن کمیشن کو بھیجےگا اور اگر وہ مذکورہ بالا مدت کے اندر ایسا کرنے میں ناکام ہو جائے تو اس کو الیکشن کمیشن کو ارسال کردہ متصور کیا جائے گا۔
3۔ الیکشن کمیشن اس سوال کا اس کی وصولی سے یا اس کو وصول کیا گیا متصور ہونے سے نوے دنوں کے اندر فیصلہ کرئے گا اور اگر اس کی یہ رائے ہو کہ رکن نا اہل ہوگیا ہے تو ، وہ رکن نہیں رہے گا اور اس کی نشست خالی ہوجائے گی۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.