قومی اسمبلی کی تحلیل

1۔ صدر قومی اسمبلی کو تحلیل کرسکے گا اگر وزیر اعظم اسے بایں طور پر مشورہ دے ؛ اور قومی اسمبلی، تاوقتیکہ اس سے قبل تحلیل نہ کردی گئی ہو، وزیر اعظم کی طرف سے بایں طور پر مشورہ دیئے جانے کے بعد اڑتالیس گھنٹوں کے خاتمے پر تحلیل ہو جائے گی۔
تشریح: ا س آرٹیکل میں "وزیراعظم" کے حوالے میں کسی ایسے وزیر اعظم کا جس کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے لئے قرار داد کا نوٹس دے دیا گیا ہو لیکن اس پر رائے دہی نہ کی گئی ہو یا جس کے خلاف ایسی کوئی قرار داد منظور کی جاچکی ہو یا جو استعفیٰ دینے کے بعد یا قومی اسمبلی کے تحلیل ہوجانے کے بعد اس عہدے پر برقرار ہو حوالہ شامل نہیں سمجھا جائے گا۔
2۔ آرٹیکل 48کی شق (2) میں شامل کسی امر کے باوجود ، صدر بھی اپنی صوابدید پر قومی اسمبلی کو تحلیل کرسکے گا جبکہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ منظور کیے جاچکنے کے بعد قومی اسمبلی کا کوئی دوسرا رُکن دستور کے احکام کے مطابق قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہ کرپائے جس کا کہ اس غرض سے طلب کردہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں معلوم ہو۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.