LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

گرفتاری اور نظر بندی سے تحفظ

By Super Admin
گرفتاری اور نظر بندی سے تحفظ

۱۔ کسی شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری کی وجوہ سے ، جس قدر جلد ہوسکے، آگاہ کئے بغیر نہ تو نظر بندرکھا جائے گا اور نہ اُسے اپنی پسند کے کسی قانون پیشہ شخص سے مشورہ کرنے اور اس کے ذریعہ صفائی پیش کرنے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔
۲۔ ہر اُس شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو اور نظر بند رکھا گیا ہو ، مذکورہ گرفتاری سے چوبیس گھنٹہ کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہوگا لیکن مذکورہ مدت میں وہ وقت شامل نہ ہوگا، جو مقام گرفتاری سے قریب ترین مجسٹریٹ کی عدالت تک لے جانے کے لئے درکار ہو اور ایسے کسی شخص کو کسی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر مذکورہ مدت سے زیادہ نظر بند نہیں رکھا جائے گا۔
۳۔ شفات (۱) اور (۲) میں مذکور کسی امر کا اطلاق کسی ایسے شخص پرنہیں ہوگا جسے امتناعی نظر بندی سے متعلق کسی قانون کے تحت گرفتاریاں نظر بند کیا گیا ہو۔
۴۔ امتناعی نظر بندی کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا بجز ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے جو کسی ایسے طریقے پر کام کریں جو پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سالمیت، تحفظ یا دفاع یا پاکستان کے خارجی امور یا امن عامہ یا رسد یا خدمات کے برقرار رکھنے کے لئے مضر ہو اور کوئی ایسا قانون کسی شخص کو (تین ماہ) سے زیادہ مدت تک نظر بند رکھنے کی اجازت نہیں دے گا تاوقتیکہ متعلقہ نظر ثانی بورڈ نے، اسے اصالتاَََ سماعت کا موقع مہیا کرنے کے بعد، مذکورہ مدت ختم ہونے سے قبل اس کے معاملہ پر نظر ثانی نہ کرلی ہو اور یہ رپورٹ نہ دے دی ہوکہ اس کی رائے میں مذکورہ نظر بندی کے لئے وجہ کافی موجود ہے اور اگر (تین ماہ) کی مذکورہ مدت کےبعد نظر بندی جاری رہے تو، تاوقتیکہ متعلقہ نظر ثانی بورڈ نے ، تین ماہ کی ہر مدت کے خاتمے سے پہلے ، اس کے معاملے پر نظر ثانی نہ کرلی ہو اور یہ رپورٹ نہ دی ہو کہ اس کی رائےمیں ایسی نظر بندی کی وجہ کافی موجود ہے۔
تشریخ اوّل:۔ اس آرٹیکل میں متعلقہ نظرثانی بورڈ سے

(اوّل) کسی وفاقی قانون کے تحت نظر بند کسی شخص کے معاملے میں پاکستان کے چیف جسٹس کی طرف سے مقرر کردہ کوئی بورڈ مراد ہے جو ایک چیئرمین اوردوسرے دو اشخاص پر مشتمل ہو جن میں سے ہر ایک عدالت عظمیٰ یا کسی عدالتِ عالیہ کا جج ہویا رہا ہو ؛اور

(دوئم) کسی صوبائی قانون کے تحت نظر بند کسی شخص کے معاملے میں متعلقہ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کی طرف سے مقرر کردہ کوئی بورڈ مراد ہے جو ایک چیئر مین اور دوسرے دو اشخاص پر مشتمل ہو جن میں سے ہر ایک کسی عدالت عالیہ کا جج ہو یا رہا ہو۔

تشریح دوئم:۔ کسی نظر ثانی بورڈ کی رائے کا اظہار اس کے ارکان کی اکثریت کے خیالات کے مطابق کیا جائے گا۔
۵۔ جب کسی شخص کو کسی ایسے حکم کی تعمیل میں نظر بند کیا جائے جو امتناعی نظر بندی کے حامل کسی قانون کے تحت دیا گیا ہو، تو حکم دینے والا حاکم مجاز مذکورہ نظر بندی سے (پندرہ دن کے اندر)مذکورہ شخص کو ان وجوہ سے مطلع کرئےگا جن کی بنا ٗ پر وہ حکم دیا گیا ہو اور اسے اس حکم کے خلاف عرضداشت پیش کرنے کا اولین مواقع فراہم کرئےگا:
مگر شرط یہ ہے کہ ایسا کوئی حکم دینے والا حاکم مجاز ان امور واقعہ کے افشاء سے انکار کرسکے گا، جن کے افشاء کو مذکورہ حاکم مجاز مفادِ عامہ کے خلاف سمجھتا ہو۔
۶۔ حکم دینے والا حاکم مجاز اس معاملے سے متعلق تمام دستاویزات متعلقہ نظر ثانی بورڈ کو فراہم کرئے گا تاوقتیکہ متعلقہ حکومت کے کسی سیکرٹری کا دستخط شدہ اس مضمون کا تصدیق نامہ پیش نہ کردیا جائے کہ کسی دستاویزات کا پیش کرنا مفاد عامہ میں نہیں ہے۔
۷۔ امتناعی نظر بندی کے حامل کسی قانون کے تحت دیئے گئے کسی حکم کی تعمیل میں کسی شخص کو اس کی پہلی نظر بندی کے دن سے چوبیس ماہ کی مدت کے اندر ، کسی مذکورہ حکم کے تحت امن عامہ کے لئے مضر طریقے پر کوئی فعل کرنے پر نظر بند کئے جانے والے کسی شخص کی صورت میں آٹھ ماہ کی مجموعی مدت سے زیادہ کسی دوسری صورت میں بارہ ماہ سے زیادہ کے لئے نظر بند نہیں رکھا جائے گا:
مگر شرط یہ ہے کہ اس شق کا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہوگا جو دشمن کاملازم ہو یا اس کے لئےکام کرتا ہو یا اس کی طرف سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرتا ہو ، یا جو کسی ایسے طریقے سے کام کررہا ہو یا کام کرنے کا اقدام کررہا ہو جو پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سالمیت ، تحفظ یا دفاع کے لئے مضر ہو یا جو کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرئے یا ارتکاب کرنے کا اقدام کرئے جو کسی وفاقی قانون میں درج شدہ تعریف کے مطابق کسی قوم دشمن سرگرمی کے مساوی ہو یا جو کسی ایسی جماعت کا رکن ہو جس کے مقاصد میں کوئی مذکورہ قوم دشمن سرگرمی شامل ہو یا جو اس میں ملوث ہو۔
۸۔ متعلقہ نظر ثانی بورڈ کسی نظر بند شخص کی نظر بندی کے مقام کا تعین کرئے گا اور اس کے کنبے کے لئے معقول گزارہ الائونس مقرر کرئے گا۔
۹۔ اس آرٹیکل میں مذکورہ کسی امر کا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہوگا جو فی الوقت غیر ملکی دشمن ہو۔
۱۰۔الف۔ منصفانہ سماعت کا حق
اس کے شہری حقوق اور ذمہ داریوں کے تعین یا اس کے خلاف کسی بھی الزام جرم میں ایک شخص منصفانہ سماعت اور جائز عمل کا مستحق ہوگا۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.