بنیادی حقوق کے نقیض یا منافی قوانین کالعدم ہوں گے۔

باب۔۱۔بنیادی حقوق
۱۔ کوئی قانون ، یا رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو، تناقض کی اس حد تک کالعدم ہوگا جس حد تک وہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کا نقیض ہو۔
۲۔ مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرئے گی جو بایں طور عطا کردہ حقوق کر سلب یا کم کرئے اور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے اس خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہوگا۔
۳۔ اس آرٹیکل کے احکام کی اطلاق حسب ذیل پر نہیں ہوگا۔
(الف) کسی ایسے قانون پر جس کا تعلق مسلح افواج یا پولیس یا امن عامہ قائم رکھنے کی ذمہ دار دیگر جمعیتوں کے ارکان سے ان کے فرائض کی صحیح طریقے پر انجام دہی یا ان میں نظم و ضبط قائم رکھنے سے ہو؛یا
(ب) ان میں سے کسی پر
(اوّل) جدول اوّل میں مصرحہ قوانین جس طرح کہ یوم نفاذ سے عین قبل نافذ العمل تھے یا جس طرح کہ مذکورہ جدول میں مصرحہ قوانین میں سے کسی کے ذریعے ان کی ترمیم کی گئی تھی؛
(دوئم) جدول اوّل کے حصہ میں مصرحہ دیگر قوانین؛
اور ایسا کوئی قانون یا اس کا کوئی حکم اس بناءپر کالعدم نہیں ہوگا کہ مذکورہ قانون یا حکم اس باب کے کسی حکم کے متناقض یا منافی ہے۔
۴۔ شق (۳) کے پیرا (ب) میں مذکورہ کسی امر کے باوجود ، یوم آغاز سے دو سال کے اندر متعلقہ متفنہ (جدول اوّل کے حصہ ۲ میں مصرحہ قوانین کو اس باب کی رو سے عطا کردہ حقوق کے مطابق بنائے گی:
مگر شرط یہ ہے کہ متعلقہ متفنہ قرار داد کے ذریعے دو سال کی مذکورہ مدت میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کی توسیع کوسکے گی۔
تشریخ: اگر کسی قانون کے بارے میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) متعلقہ متفنہ ہوتو مذکورہ قرار داد قومی اسمبلی کی قرارداد ہوگی۔
۵۔ اس باب کی رو سے عطا کردہ حقوق معطل نہیں کئے جائیں گے بجز جس طرح کہ دستور میں بالصراحت قرار دیا گیا ہے۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.