LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
General Articles

وعدہ معاف گواہ(2)

By Super Admin
وعدہ معاف گواہ(2)

وعدہ معاف گواہ کے بیان پر کیا کسی کو سزا ہوسکتی ہے ؟صرف وعدہ معاف گواہ پے اس سوال کا جواب ہے نہیں قعتا نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ وعدہ معاف گواہ کے بارے میں ایک طریق کار میں نے آپ کو بتا دیا کہ تفتیشی افسر یا انکوئری آفیسرعدالتوں کی تفتیش کے دوران، انکوائری عدالتوں کے دوران،ٹرائل عدالتوں کے دوران کسی بھی مرحلے پے کوئی بھی جج یا تفتیشی افسر سمجھتا ہے کہ فلاں شخص جو ہے وہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ اس میں ملزم تو ہے وہ تمام حقائق بتا سکتا ہے تو اگر اس کو پارڈن ٹینڈر کیا جائے اس کو وعدہ معاف گواہ بنایا جائے تو وہ تمام سچ بتا دے گا تو پھر اس کو تحریری طور پر ٹینڈر کیا جاتا ہے ۔ یہاں پے میں ایک اور گزارش کرتا چلوں اگر آپ کو معافی ٹینڈر تحریری طور پر نہیں کیا گیا اگر آپ کو تحریری شکل میں وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشکش نہیں کی اور آپ کا بیان ریکارڈ کر لیا جاتا ہے تو بھئی آپ بُری طرح پھس گئے آپ کو پارڈن نہیں ملے گا آپ کو چھوٹ نہیں ملے گی بلکہ آپ کا وہ بیان آپ کے خلاف استعمال ہوگا ۔ اب دوسری چیز آگئی کہ 338،337 اور 339 تحت ریکارڈ کیا گیا بیان164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا بیان ان میں فرق کیا ہے؟ 337،338،339 صرف ڈیل کرتے ہیں اپروور کو وعدہ معاف گواہ کو اس کا میکانزم ہی اور ہے اس میں عدالت یہ نہیں کہتی کہ یہ بیان تمہارے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے اس بیان کی وجہ سے تمہیں سزا بھی ہوسکتی ہے صرف یہ یقین دہانی کرتی ہے کہ تم نے مکمل اور سچا انکشاف کرنا ہے اگر مکمل اور سچا انکشاف نہیں کروگے تو تمہارا یہ بیان نہیں مانا جائے گا لیکن 164 کی ضروریات اور ہیں 164 کی ضرورت میں مجسٹریٹ باقاعدہ طور پرمحتاط کرتا ہے بیان دینے والے کو کہ بھئی یہ بیان تمہارے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے اس بیان کی بنیاد پے تمھیں سزا بھی ہوسکتی ہے تم اپنی آزاد مرضی سے دے رہے ہو لیکن جب پارڈن ٹینڈر کیا جاتا ہے تو زخمی اور قتل کے مقدموں میں جب تک مظلوم یا مظلوم کے لواحقین ;231;لواحقین سے مراد قانونی وارث قانونی وارث اجازت نہیں دیں گے تو پارڈن ٹینڈر نہیں کرسکتے کوئِ بھی نہ عدالت ٹینڈر کرسکتی ہے نہ تفتیشی ایجنسیاں ٹینڈر کرسکتی ہے وہ نہیں کرسکتی پارڈن ٹینڈر جب تک ان کی اجازت نہیں ہوگی۔ 337،338،339کے تحت دی گئی بیان وعدہ معاف گواہ کے طور پر ہے164 کے تحت دی گئی بیان اقبا ل جرم کے زمرے میں آتی ہے اقرار جرم اقبال جرم کے زمرے میں آتی ہے لہذا یہ بڑا فرق ہے اس میں ۔ اب واپس اپنے نقطے پر آتے ہیں کہ اپروور کو پارڈن ٹینڈر ہوا اس کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی پیشکش ہوئی ۔ پیشکش ہونے کے بعد وہ بیان دیتا ہے تو اس بیان کو ڈبل ٹیسٹ ملے گا جس میں اس کا پاس ہونا بہت ضروری ہے وہ دو کسوٹیوں میں سے گزرے گا اور اگر وہ ڈبل ٹیسٹ پاس نہیں کرتا تو اس کا بیان درست نہیں تسلیم کیا جائے گا ۔ پہلا عدالت اس چیز کی یقین دہانی کرئے گی کہ کیا یہ گواہ قابل بھروسہ ہے ;238; میں بطور اپروور مجھے پارڈن ٹینڈر ہوتا ہے میر ے خلاف مقدمے کے سلسلے ہیں فراڈ کے ، قتلوں کے ، زخمی کے میں پہلے ہی اس نوعیت کے مقدمات میں شامل ہوں میں تذکیہ اور شہود پے پورا نہیں اترتا یہ پہلا ٹیسٹ ہوگا ۔ اگر یہ بیریر میں کراس کر گیا کہ ہاں میں قابل اعتماد ہوں تو دوسرا ٹیسٹ کہ میں جو کہہ رہا ہوں تو وہ موجودہ حالات و واقعایات کے ساتھ جمع کررہے ہیں یا نہیں اگر موجود حالات وواقعایات کے ساتھ جمع کررہے ہیں توپھر میرے بیان کو تسلیم کیا جائے گا اور جیسے ہی میرے بیان کو ریکارڈ کیا جائے گا بطور اپروور تو میرا گواہ کی حیثیت سے ہوجائے گا میں بطور گواہ پیش ہوءوں گا اور دفاع اور جو ہمراہی ملزمان ہے ان کے پاس مکمل اختیار ہوگا مجھے جراح کرنے کا، مجھے جھوٹا ثابت کرنے کا مکمل اختیار ہوگا اگر وہ جھوٹا ثابت کرگئے پھر بھی میرا بیان نہیں مانی جائے گی اور اگر وہ جھوٹا ثابت نہ کرسکے تو پھرمیرا بیان بدرجہ اتم موجود تصور کی جائے گی، درست تصور کی جائے گی اور سچائی پر مبنی تصور کی جائے گی اور اس بیان کی بنیاد پے سزا ہوگی ۔ اب پارڈن جس کو ٹینڈر کیا جارہا ہے کہیں وہ پریشر میں تو نہیں رکھ کے کیا جارہا اس کو مجبور تو نہیں کیا جارہا ہے کہ تم اپروور بنو اس کو بلیک میل تو نہیں کیا جارہا کہ تم اپروور بنو اس کودھمکی تو نہیں دی جارہی کہ تم وعدہ معاف گواہ بنو اس چیز کو بھی عدالت نے دیکھنا ہے ۔ نواز شریف کیس2009 پی ایل ڈی صفحہ814 سپریم کورٹ اس ڈبل ٹیسٹ سے اس اپروورکو گزارا گیا اور کیا یہ سامنے آیا جس کی بنیادپے اپروورکے ثبوت کو خارج کردیا گیا ۔ انھوں نے کہا نہیں ہم نہیں یہ مانیں گے وہ فیکٹ کیا سامنے آیا کہ جو شخص اپرووربنا جس کو پارڈن ٹینڈر کیا گیا جس دن پارڈن ٹینڈر کیا گیا اس سے پہلے وہ فورسز کی تحویل میں تھا جب یہ بات سپریم کورٹ کے سامنے لائی گئی حالیہ مرحلے پے جھکے ہوئے مرحلے پے کہ جناب یہ اپروور جوہے یہ اس تاریخ کو بیان دے رہا ہے اور اس سے پہلے یہ بندہ دو ماہ سے فورسز کی تحویل میں تھا اور فورسزنے اپنی تحویل میں لے پھر تفتیشی ایجنسی کو دیا اور تفتیشی ایجنسی نے سیدھا جاکے اس کا بیان ریکارڈ کروایا بطور اپروور تو عدالتوں نے اس کو خارج کیا کہ اگر اپروور جو ہے وہ غیر قانونی تحویل میں ہے اس بیان دینے سے پہلے غیر قانونی حراست میں رہا ہے تو اس کے بیان کو نہیں مانا جائے گا وہ تصور کیا جائے گا اس کو مانا جائے گا کہ اس کو دھمکی دے کے یہ بیان دلوایا گیا ہے اس کو مجبور کرکے بیان دلوایا گیا ہے اس کو بلیک میل کرکے بیان دلوایا گیا ہے جو پہلے میں نے ڈبل ٹیسٹ کے بتایا اس کا بھی اس میں مکمل ذکر ہے ۔ اب اس کا بیان ہم آہنگی کرنا چاہیے مماصلت رکھنا چاہیے منسلک ہونا چاہیے کہ جس طریقے سے وہ جرم ہوا اپروور کا بیان بھی اسی طریقے سے اسی سلسلے کے ساتھ آرہا ہے لیکن وہ جرم تو موجود ہے درمیان میں خلا ہے کہ یہ کس نے کیسے اور کیوں کیا؟ اپروور وہ بتا رہا ہے اس نے ایسے اور اس وجہ سے کیا وہ خالی جگہ جوہے وہ پوری کررہا ہے ۔ جب یہ باہمی تعاون آجائے گی تو پھر اپروور کا بیان بدرجہ اتم مانا جائے گا ۔ 2014 وائے ایل آر صفحہ 1412 لاہور ہائی کورٹ لاہوراب میں نے آپ کو یہ بھی بتا دیاکہ164 کے بیان میں اور 337 کے بیان میں فرق کیا ہے؟تحریری طور ہونا چاہیے اب ایک قانونی معاملا آگیا اب کہا گیا کہ337،338،339 کاموازنہ ، 464 اور 248 کے ساتھ کیا جائے سی آر پی سی یہ سارے سیکشن سی آر پی سی کے ہیں 337،338،339 جو ہے وہ اس چیز کو ڈیل کرتا ہے کہ اس کو وعدہ معاف گواہ بنایا گیا اس نے ثابت کیا اس کو بری کردیا جائے اس نے جرم کیا یہ ثابت ہوا کہ اس نے جرم کیا اور اس جرم میں شریک تھا ۔ آپ کے ذہن میں ایک بات آگئی ہوگی مجھے بتانے کی ضرورت نہیں تھی میں پھر بھی بتا دیتا ہوں کہ اپروورکا وعدہ معاف گواہ کاملزم اس مقدمے میں ہونا لازمی ہے اگر وہ ملزم نہیں ہے تو پھر وہ اپروور نہیں وہ پھربطور گواہ آئے گاکہ مجھے ان حالات کا پتا ہے وہ ان حقائق کو جو اس کے پاس ہیں وہ بیان کررہا ہے بطور گواہ اس کا 337،338،339 سے کوئی تعلق واسطہ نہیں وہ ملزم ہوگا اس مقدمے میں اگر ملزم ہوگا تو پھر 337،338،339 کے تحت ضابطہ فوجداری کے تحت وہ وعدہ معاف گواہ بنے گا وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد وہ اس میں سے بطور وعدہ معاف گواہ اس کو نکالا جائے گاخاموش کیا جائے گا کیوں خاموش کیا جائے گا کہ یہ جو عمارت بنی تھی استغاثہ کی اس میں جو خلا تھے وہ اس نے پُر کئے اور وہ جو پُر کئے وہ ہم آہنگی کئے حقائق کے ساتھ وہ مماصلت رکھتے تھے ان حقائق کے ساتھ اگر وہ خلا رہنے دیئے جائیں تو نہ صرف یہ جاتا تھا بلکہ باقی چار بھی جاتے تھے اسلئے وعدہ معاف گواہ بنایا گیا کہ وہ خلا پورا ہو اب خلا پورا ہوگیا ان کو سزا ہوگئی اس کو نکال دیا جائے ۔ 494 اور 248 ، اگرچہ فرق ہیں 337،338،339 کے تحت پورا ٹرائل ہوگا ٹرائل ہونے کے بعد وعدہ معاف گواہ بری ہوگا جبکہ 494 کے تحت ضابطہ فوجداری کے تحت استغاثہ اپنا مقدمہ واپس لے گی استغاثہ واپس لے گا وہ مقدمہ248 کے تحت شکایت کنندہ واپس لے گا مقدمہ اور جب وہ واپس لیں گے مقدمہ تو پھر ایک کوءٹل آرڈر (خاموشی کے لئے) جو ہے نہ وہ پاس ہوگا کہ کیونکہ استغاثہ نے واپس لے لیا اسلئے اس کو خاموش کیا جاتاہے کیونکہ شکایت کنندہ نے واپس لے لیا مقدمہ اس لئے اس کو خاموش کیا جاتا ہے لیکن 337،338،339 کے تحت مقدمہ واپس نہیں ہوگا اس کا بلکہ جب اپروورنے جب بیان دے دیا تو اس کو جوڈیشل تحویل میں رکھا جائے گا اس کی حفاظت کے لئے اوراگر وہ اپروور ثابت ہوتا ہے تو ٹرائل کے آخر میں اس کو بری کردیا جائے گا اور اگراپروور ثابت نہیں ہوتا تو وہ بیان اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی بلکہ اس کا آزادانہ ٹرائل کیا جائے گا ۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.