Urdu Articles
Legal articles in Urdu, covering a range of practice areas relevant to Pakistan.
332 results in General Articles · Clear filters

باب۔4۔ نظام ِ عدالت کی بابت عام احکام (توہین عدالت)
1۔ اس آرٹیکل میں "عدالت" سے عدالت عظمیٰ یا کوئی عدالت عالیہ مراد ہے۔ 2۔ کسی عدالت کو کسی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہوگا ہوجوــــ (الف) عدالت کی قانونی کاروائی کی کسی طرح مذمت کرئے ، اس میں مداخلت یا مزاحمت کرئے یا عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی کرئے؛ (ب) عدالت کو بدنام کرئے یا بصورت دیگر کوئی ایسا فعل کرئے جو اس عدالت یا عدالت کے جج کے بارے میں نفرت ، تضحیک یا توہین کا باعث ہو؛ (ج) کوئی ایسا…

قواعد وضع کرنے کا اختیار
1۔ عدالت ، سرکاری جریدہ میں اعلان کے ذریعہ ، اس باب کی اغراض کی بجا آوری کے لئے قواعد وضع کرسکے گی۔ 2۔ بالخصوص ، اور قبل الذکر اختیار کی عمومیت کو متاثر کئے بغیر، مذکورہ قواعد میں مندرجہ ذیل جملہ معاملات یا ان میں سے کسی کی بابت حکم وضع کیا جاسکے گا، یعنی:ـــــ (الف) ماہرین قانون ، ماہرین اور گواہوں کو جنہیں عدالت کی طرف سے طلب کیا گیا ہو، ایسے اخراجات اٹھانے کیلئے ، اگر کوئی ہوں ، اعزاز یہ کی…

حذف کردی گئی
انتظامی اقدامات ، وغیرہ ۔ فرمان دستور (ترمیم دوم) 1982ء (فرمان صدر نمبر 5 مجریہ 1982ء ) کے آرٹیکل 8 کی رو سے حذف کردی گئی۔

زیر سماعت کاروائیاں وغیرہ جاری رہیں گی
1۔ شق(2) کے تابع اس باب میں کسی امر سے کسی ایسی کاروائی کو جو اس باب کے آغاز نفاذ سے فوراََ قبل کسی عدالت یا ٹربیونل میں زیر سماعت ہو، یا اس کی ابتداء مذکورہ آغاز نفاذ کے بعد ہوئی ہو، صرف اس وجہ سے ملتوی یا موقوف کردینا مطلوب متصور نہیں ہوگا کہ عدالت کو اس امر کا فیصلہ کرنے کی درخواست دی گئی ہے کہ آیا مذکورہ کاروائی میں امر تنقیح طلب کے فیصلے سے متعلق کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم اسلامی احکام…

عدالت کا فیصلہ عدالت عالیہ اور اس کی ماتحت عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا
آرٹیکل 203۔د اور 203۔و کے تابع ، اس باب کے تحت اپنے اختیار سماعت کے استعمال میں عدالت کا کوئی فیصلہ کسی عدالت عالیہ پر اور کسی عدالت عالیہ کی ماتحت تمام عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔

اختیار سماعت پر پابندی
بجز جیسا کہ دفعہ 203۔و میں مقرر کیا گیا ہے ، کوئی عدالت یا ٹربیونل ، بشمول عدالت عظمیٰ اور کوئی عدالت عالیہ ، کسی ایسے معاملہ کی نسبت کسی کا روائی پر غور نہیں کرئے گی یا کسی اختیار یا اختیارِ سماعت کا استعمال نہیں کرئے گی جو عدالت کے اختیار سماعت میں ہو۔

عدالتِ عظمیٰ کو اپیل
1۔ آرٹیکل 203د کے تحت عدالت کے سامنے کسی کاروائی کا کوئی فریق جو مذکورہ کاروائی میں عدالت کے قطعی فیصلہ سے ناراض ہو، مذکورہ فیصلہ سے ساٹھ یوم کے اندر ، عدالت عظمیٰ میں اپیل داخل کرسکے گا: مگر شرط یہ ہے کہ وفاق یا کسی صوبے کی طرف سے اپیل مذکورہ فیصلے سے چھ ماہ کے اندر داخل کی جاسکے گی۔ 2۔ آرٹیکل 203د کی شقات (2) اور (3) اور آرٹیکل 203ہ کی شقات (4) تا (8) کےاحکام کا عدالت عظمیٰ پر اور اس کے سلسلے…

عدالت کے اختیارات اور ضابطہ کار
1۔ اپنے کارہائے منصبی کی انجام دہی کی اغراض کیلئے ، عدالت کو حسبِ ذیل امور کی نسبت مجموعہ ضابطہ دیوانی ، 1908ء (ایکٹ نمبر5 بابت 1908ء ) کے تحت کسی مقدمہ کی سماعت کرنے والی کسی عدالت دیوانی کے اختیارات حاصل ہوں گے یعنی:- (الف) کسی شخص کو طلب کرنا اور اس کی حاضری نافذ کرنا اور اس کا حلفاََ بیان لینا؛ (ب) کسی دستاویز کے انکشاف اور پیش سازی کا حکم دینا؛ (ج) بیانات حلفی پر شہادت لینا؛ اور (د) گواہوں…

عدالت کا اختیار سماعت نگرانی اور دیگر اختیار سماعت
1۔ عدالت حدود کے نفاذ سے متعلق کسی قانون کے تحت کسی فوجداری عدالت کی طرف سے فیصلہ شدہ کسی مقدمے کا ریکارڈ اس غرض سے طلب کر سکے گی اور اس کا جائزہ لے سکے گی کہ مذکورہ عدالت کے قلمبند کردہ یا صادر کردہ کسی نتیجہ، تفتیش، حکم سزا یا حکم کی صحت، قانونی جواز یا معقولیت کے بارے میں ، اور اس کی کسی قانونی کا روائی کی باضابطگی کے بارے میں اپنا اطمینان کرسکے اور مذکورہ ریکارڈ طلب کرتے وقت یہ ہدایت دے سکے…