ریمانڈ (2)
جسمانی اذیت کی قانون میں سخت مماننت ہے اور یہ ایک جرم ہے خواہ پولیس آفیسر ملزم سے ہی کیوں نہ کرئے پولیس آفیسر کو یہ قعتا اختیار نہیں کہ اگر کسی ملزم کا فزیکل ریمانڈ ہے کہ اس کو پوری چھوٹ ہے کہ وہ اسکوجسمانی اذیت کرئے خواہ کسی قسم کا بھی ہویہاں تک کہ ذہنی اذیت بھی جوہے وہ ان کو اجازت نہیں ہے ۔
اب سوال یہ متواتر پوچھا جاتا ہے کہ جناب وہ رات کے ٹائم ہوتا ہے رات کے ٹائم تووہ بڑامارتے پیٹتے ہیں ۔ یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں بھئی ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں نہ ہم نہ وکیل کی سنتے ہیں نہ کسی سیانے کی سنتے ہیں نہ مانتے ہیں ہم مانتے ہیں پولیس کی جب ہم مانتے ہیں پولیس کی پولیس کے بارے میں جو مشہور ہے کہ پولیس اپنے سگے باپ کی بھی ہمدرد نہیں ہوتی یہ اپنے ذہن میں رکھ لیں کہ یہ بالکل درست ہے ۔ اگر ایک پولیس آفیسر رات کو آپ کو ٹارچر کررہا ہے اور صبح وہ آپ کو بہترین ناشتہ کروارہا ہے کہ جی صبح عدالت میں پیش کرنا ہے تو یہ سمجھ لیں کہ وہ بہترین ناشتہ آپ کے لواحقوں کے پلے سے ہی کروارہا ہے وہ ناشتہ اسلئے کروارہا ہے کہ میں نے پھر ریمانڈ لینا ہے اور پھر رات کو اسکی پٹائی کرنی ہے اس کو ٹارچر کرنا ہے یہ بات ہم نہیں سمجھ پاتے جب ہم پولیس کی تحویل میں ہوتے ہیں وکیل پیٹتے رہتے ہیں کہ بھئی اس کا تدارک کروتمہارے حق میں ہے آخر میں پھر ان کو نقصان ہوتا ہے ۔
آپ کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ جس وقت آپکو جسمانی اذیت کیا گیا ہے آپ کے لواحقوں کو پتا چل گیا فرض کریں کہ آج ایک شخص کو تین دن کا ریمانڈ ملاجس دن وہ گیا اسی دن اس کو اذیت سے مشروط کیا گیا ۔ اب کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ تین دن کا ریمانڈ دے دیا گیا ہے اب وہ تیسرے دن ہی وہ پیش کریں گے نہیں بھئی ایسا نہیں ہے ۔ آپ فوری طورپر آپ کے لواحق عدالت میں درخواست دیں کہ جناب ملزم کوجسمانی اذیت کیا جارہا ہے عدالت اسی وقت ملزم کو طلب کر لے گی کہ لے کے آءو بھئی پیش کرو اسی وقت عدالت حکم دے گی کہ جناب اس کا میڈیکل کرواءو اور میڈیکل میں اگر ٹارچر آگیا ہے تو وہ پولیس والا نوکری سے گیا ہم ڈرتے رہتے ہیں ۔
تفتیش کا پاکستان میں ایک تصور بیٹھ گیا ہے کہ تفتیش میں جب فزیکل ریمانڈ ملے گا تو اس کو ٹارچر کیا جائے گا ہم نے اس چیز کو ہضم کرلیا ہوا ہے ہم نے اس چیز کو ہضم کر لیا ہوا ہے اپنے اوپر طاری کرلیا ہوا ہے جب کے ایسا نہیں ہے آپ اپنے حقوق کے لئے کھڑے تو ہوں ۔ وہ آپ کے حق میں ہے آپ درخواست دیتے ہیں کہ جی ملزم پے فزیکل ٹارچر کیا جارہا ہے اس کو بلایا جاتا ہے یا نہیں بلاتے اسی وقت وہ ایس ایچ او کو کہتا ہے یا تفتیشی آفیسر کوسمت دے دیتا ہے کہ آج ہی اس کا میڈیکل کرواءو ۔ وہ عدالت کا اطلاع نامہ تھانے میں وصول ہوتا ہے یہ نہیں آپ نے درخواست خود پکڑی اور تفتیشی کے پاس لے کے گئے کہ اسکا میڈیکل کرواءو نہیں اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔
بات وہی ہے جو ریکارڈ پر ہو عدالت نے حکم دے دیا کہ جناب اسکا طبعی معائنہ کرواءو عدالت سے کہا جائے کہ بذریعہ نائب کوٹ یہ اطلاع نامہ تھانے بجھوایا جائے فوری طور پرنائب کوٹ تھانے میں جائے گاروزنامچے میں اسکا اندراج کرئے گا اندراج کرکے وہ حکم نامہ جا کے تفتیشی افسر کے ہاتھ میں تھمائے گا پھر دیکھوں گا کہ وہ کیسے میڈیکل نہیں کرواتا؟ اور پھر دیکھو ں گا کہ اس کے اوپر کیسے آپ کو یہ ڈر ہے نہ مقدمات میں پھنسا دیا جائے گا آپ درخواست میں لکھ دیں کہ جناب فزیکل ٹارچر کیا جارہا ہے ہم نے اس کو کہا مت کرو یہ غیر قانونی ہے انھوں نے کہا اگر تم نے کسی کو بتا یا کہ فزیکل ٹارچر کیا تو یہ ساری زندگی جیل سے باہر نہیں نکلے گا مقدمات کے سلسلے میں اسکو شامل کردوں گالکھیں ۔ پولیس بڑھی اسی وجہ سے ہے پولیس کا حوصلہ بڑھا ہی اس وجہ سے ہے کہ شکایت کنندہ سکون کے ساتھ ہے بیک وقت جو حقوق ملزم کو فزیکل ریمانڈ میں دستیاب ہے وہ مدعی کو بھی ہیں تین دن کا ریمانڈ مل گیا اورپولیس والا جو ہے وہ جا کے سو گیا اس کو وی آئی پی کمرے میں بٹھادیا گیا ملزم کو اس کو کھانے چل رہے ہیں اس کے جناب مٹھی چانپی کرنے والے بندے ہیں وہ سارا کچھ وی آئی پی پروٹوکول مل رہا ہے ۔ شکایت کنندہ تین دن کا انتظار کیوں کرئے کہ جناب فزیکل ریمانڈ ملا ہے تفتیش کے لئے ۔
میں گیا ہوں اور میں نے یہ حالا ت دیکھیں ہیں وہ فوری طور پر مجسٹریٹ کو درخواست دے کہ جناب میں نے یہ حالات دیکھیں ہیں میرا تو مقدمہ تو تباہ و برباد کیا جارہا ہے ریمانڈ پے ریمانڈ میں خود کہتے سنا ہے چودہ دن کا ریمانڈ پورا کرو کچھ ریکوری نہیں ہوگی اس کو جیل بجھوادیں گے کہ چودہ دن کا ریمانڈپورا ریکارڈ پر وہ درخواست آجائے ۔ مجسٹریٹ کے پاس دو اختیارات ہیں انصاف کی انتظامیہ بہت وسیع ہے اتنے اختیارت ہائی کورٹ کے قابل عزت جج کے پاس نہیں ہے سپریم کورٹ کے قابل عزت ججوں کے پاس نہیں ہے جتنے اختیارات ایک علاقہ مجسٹریٹ کے پاس ہیں اگر یہ درخواست آتی ہے تو مجسٹریٹ جسمانی بھی تھانے جاسکتا ہے دیکھنے کے لئے کہ کیا حالات چل رہے ہیں ۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے جو اقدام کیا کہ جسمانی سب جیل جو ہسپتال قرار دی گئی تھی جو اصل جیل تھی دونوں پے انھوں نے دیکھا ایک سے شہد اور زیتون برآمد ہوا ایک سے چائنیز اور بہترین کھانے اس کے سیل سے دیتھ سیل سے برآمد ہوئے ۔ یہ کام مجسٹریٹ کا ہے یہ اختیارات یہ طاقت ایک مجسٹریٹ کے پاس ہے ۔ آپ جگائیں تو سہی جا کے عدالت کو کہ یہ یہ ہورہا ہے یقین مانے مجسٹریٹ بھی لطف اٹھاتے ہیں کہ ہاں ہ میں کسی نے کہا ہے ہم اپنے اختیارات استعمال کرنے جارہے ہیں ۔ ہائی کورٹ تعریف کرئے گی کہ ہاں ایک مجسٹریٹ نے اپنے اختیارات کا بالکل درست استعمال کیا اور اگر مجسٹریٹ جا کے یہ دیکھ لیتا ہے معاملات کہیں کے کہیں چلے جاتے ہیں ۔
اب قانون مزید کدگن لگاتا ہے فرض کریں ایک تھانے میں ایک ملزم کے خلاف تین مقدمات ہیں اب علم کی کمی قانون سے نابلندگی اب پولیس والا کیا کرتا ہے ایک مقدمے میں گرفتاری ڈالتا ہے اسکا ریمانڈ لیتا ہے اس کا گیارہ دن ،بارہ دن ، تیرا دن، چودہ دن، سات دن جتنا بھی ہے ریمانڈ لیتا رہتا ہے لیتا رہتا ہے جب مجسٹریٹ اس کوجوڈیشل کرتا ہے نہیں جی اب مزید ریمانڈ نہیں ملے گا تو وہ دوسرے مقدمے میں گرفتاری ڈال کے ریمانڈ لینے آجاتا ہے پھر سات ،آٹھ دن اس کا چلتا ہے دس دن، بارہ دن جتنا بھی اس کے بعد وہ پھر جوڈیشل ہوتا ہے وہ تیسرے میں اس کی گرفتاری ڈال دیتا ہے قانون اس کی اجازت نہیں دیتا
قانون کہتا ہے کہ تھانے میں ایک سے زائد مقدمات ہیں تو آپ تمام میں اسکی گرفتاری ڈالیں گے آپ تمام میں ریمانڈ مانگیں گے ایک ہی وقت میں اتفاق سے لفظ استعمال ہوا ہے فرسودہ کیا گیا ہے حوصلہ شکنی کی گئی ہے پولیس کے اس اقدام کو کہ ایک تھانے میں اگر تین مقدمات ہیں تو کیونکہ قانون کی نظر میں جب تک گناہگار ثابت نہیں ہوجاتا ملزم قانون کا پیارا بچہ ہے ہر وہ بندہ معصوم ہے جب تک اس کے اوپر الزام ثابت نہیں ہوجاتا قانون کی منشاء یہ نہیں ہے کہ ایک بند ے پر الزام لگا اس کو چیرپھاڑ کے رکھ دو نہیں جب تک ثابت نہیں ہو جاتا جب تک وہ سزا یافتہ کی تعریف میں نہیں آتا تب تک وہ معصوم ہے ۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.