LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk
Family Law

حق مہر کا غلط مطالبہ

By Super Admin
حق مہر کا غلط مطالبہ

سوال : ایک بیوی نے اپنے شوہر پر دعویٰ دائر کیا ہے کہ مجھے طلاق دو اور میرا حق مہر ایک گھر، سامان جہیز جو کہ ڈیڑھ کڑوڑ اور نان و نفقہ پچیس ہزار وپے ادا کیا جائے ۔ بتائیں میں کیا کروں ؟ حل: اس کے لئے آپ کیا کیا کرسکتے ہیں ؟میں اپنے تجربے کے تحت آپ کو بتا رہا ہوں اس پر غورکریں آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا ۔ 1-آپ ایک جئید اور قابل وکیل کریں وہ پنجابی کا محاورہ ہے مہنگا روئے ایک باراور سستا روئے بار بار اب وہ آپ کو کیسے پتا چلے گا کہ وہ جئید ہے قابل ہے وہ پہلی سیٹنگ میں آپ کو پتا چل جائے گا کیونکہ آپ نے جا کے کہنا ہے کہ یہ میرا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے تناظر میں وہ آپ سے جو جو سوال اپنے تجربے کی بنیاد پے کرئے گا ۔ اس سے آپ کو پتا چل جائے گا کہ وہ قابل ہے ، جئید ہے، مجاز ہے ۔ 2- آپ کی نظر میں بے وجہ بات ہے، آپ کی نظر میں بڑی اہم بات ہے، آپ کی نظر میں غیر ضروری آپ کی نظر میں بے وجہ بات ہے، آپ کی نظر میں بڑی اہم بات ہے، آپ کی نظر میں غیر ضروری بات ہے آپ نے اپنے مقدمے سے متعلق ہر بات اپنے وکیل کو لکھوانی ہے ۔ اچھا وکیل جو ہے وہ آپ بولتے جائیں گے پہلی سیٹنگ میں وہ لکھتا جائے گا لکھتا جائے گاکیونکہ بے شمار مقدمات ہوتے ہیں بندے کے ذہن سے نکلتا جب وہ پہلا مقدمہ نکالتا ہے یا آپ کی ڈرافٹنگ نکالنے کے لئے نکالتا ہے توآپ کا سارا امیج سامنے آجاتا ہے اس کے بعد لکھ دیتا ہے ۔ اب آتا ہوں میں اس مقدمہ کی طرف کہ ایک بیو ی نے مقدمہ کیا کہ مجھے شوہر کے ظالمانہ روئیے کی بنیاد پرطلاق دی جائے ۔ حق مہر میں مجھے گھر لکھ کر دیا گیا تھا وہ دیا جائے، سامان جہیز کی ایک لمبی چوڑی ڈیڑھ کڑوڑ روپے کی لسٹ وہ دے دی گئی، نان نفقے کے لئے اس نے پچیس ہزار روپے ماہانہ طلب کر لیا ۔ سامان جہیز ڈیڑھ کڑوڑ کا اب میں نے وہ یہ دعویٰ ہواشوہر کے خلاف شوہر میرے پاس آگیا اب میں نے ہر چیز پوچھی وہ کہہ رہا جی ہم حلفاََقرآن کسی کی ایک نیڈل بھی اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے ہم واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ ڈیڑھ کڑوڑ کا سامان جہیز بالکل جھوٹ ہے ۔ اب جو اہم پوائنٹ تھا اس میں وہ یہ تھا کہ عدالت کو اس ٹرانس سے باہر لانامحنت طلب ہے کہ یہ ڈیڑھ کڑوڑ روپے کی سامان جہیز کی لسٹ غلط ہے جبکہ یہ سامان جہیز دو ڈھائی لاکھ روپے کا ہے ۔ اب بندہ ڈیڑھ کڑوڑ مانگتا ہے کہ کتنا نیچے آئے گاپچاس لاکھ دے دےگا، چالیس لاکھ دے دیگا ۔ اب اصل صورت حال یہ تھی کہ وہ سامان جہیز دو ڈھائی ،تین لاکھ روپے کا تھا ۔ اہم جو فوکس یہ تھا کہ ڈیڑھ کڑوڑ سے نیچے کیسے لائیں ۔ ڈیڑھ کڑوڑ عدالت کے مافیوس ضمیرسے سوچ سے باہر کیسے نکالیں؟یہ بالکل بے بنیاد ہے اسکے لئے پورا ایک پلاٹ بنانا پڑنا تھاپورا ایک سلسلہ کار اس کے لئے مجھے بے شمارملاقاتیں کرنا پڑیں سائل کو بلا کے ۔ سائل کو بار بار بلا رہا ہوں ، بار بار بلا رہا ہوں ۔ ابتدائی مرحلے میں کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی جواب دعویٰ بھی جانا ہے کیا کریں کیا کریں کیا کریں؟ یہ ڈیڑھ کڑوڑ کے سامان سے کیسے جان چھٹے؟ چوتھی یا پانچویں میٹنگ میں اب سائل میرا آرہا ہے اس کے گلے میں چینز ہیں یہ ہے سارا کچھ دوسری پارٹی آرہی ہے وہ بھی اچھا خاصا سمجھ سے باہراچانک میں نے پوچھا کہ بھائی آپ کا گھر جو ہے وہ کتنے رقبے میں مہیت ہے اس نے کہا چار مرلے پے مہیت ہے میں نے کہا کون کون رہتا ہے کہتا ہے میں رہتا ہوں میرے دو بھائی رہتے ہیں میرے والدین رہتے ہیں ۔ دو بھائی جو ہیں وہ شادی شدہ ہے جی بالکل شادی شدہ ہیں ۔ چار مرلے کے گھر میں جی جی جی آپ کو کیا ملا تھا؟جی گرائونڈ فلور پے ایک کمرہ ملا تھا اس کے علاوہ اسکے علاوہ کچھ نہیں کچن سانجا ہے دوسری منزل پے تو تیسری منزل پے جو ہے نہ دونوں بھائی دوسرے رہتے ہیں نیچے میں ایک کمرے میں رہتا ہوں دوسرے میں یہ سارا کچھ ۔ میں نے کہا اچھا میں نے پوچھا کہ لڑکی والوں کا گھر کتنے مرلے کا ہے انھوں نے کہا انھوں نے کہا جی ان کا بھی چار پانچ مرلے کا ہے میں نے کہا ادھر کون کون رہتا ہے؟کہتے جی اس کے دو شادی شدہ بھائی رہتے ہیں ایک غیر شادی شدہ بھائی رہتا ہے والدین رہتے ہیں ان کا ایک چچا اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے پانچ مرلے کے گھر میں جی پانچ مرلے کے گھر میں شکر ہوا ۔ میں کہا حلفاََ قرآن اپنی لسٹ بنا کر لاءو ۔ وہ ایک سامان جہیز کی ایک لسٹ جو نارمل ایک باپ ایک والدین جو اپنی بیٹی کو دیتے ہیں ۔ میں نے وہ سامان جہیز کی فہرست جواب دعوے کے ساتھ لگائی اور اپنا جواب دعویٰ تیار کیا اس میں ہر نقطے کو تصدیق کیا ۔ ایک بات جو میں نیچے ٹرائل کورٹ کوسمجھانے میں مدد کرنے میں ناکام رہاجو میری بات ہائی کورٹ میں آکرمانی گئی کہ نکاح نامے میں جس گھر کا ذکر کیا گیا ہے وہ گھر صرف اس کے رہنے کے حق کی حد تک کیا گیا ہے کہ تمھیں جب تک تم نکاح میں رہوگی تو اس گھر میں رہنے کا حق رکھتی ہو لیکن ٹرائل کورٹ نے اور ایپلٹ کورٹ نے اس کو یہ تصور کیا گیا کہ نہیں یہ گھر اس کو دے دیا گیا ہے ۔ وہ ہائی کورٹ نے بھی مانا اور ماننے کے بعد وہ سپریم کورٹ نے بھی مانا سپریم کورٹ میں میں نہیں گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس کو برقرار کیا سپریم کورٹ نے باقاعدہ اس پر بحث کی ۔ بحث کرنے کے بعد جو ہے نہ یہ معاملات سارے ہوئے ۔ اب جب عدالت کے سامنے میں نے یہ رکھا ایک پانچ مرلے کے گھر میں رہنے والا بندہ اپنی بیٹی کو ڈیڑھ کڑوڑروپے کا سامان جہیز دے کر ایسے گھر میں بھیج رہا ہے جو تین سے چار مرلے پے ہے ۔ میں تین مرلے نہیں کہتا میں چار مرلے نہیں کہتا میں پانچ مرلے کہتاہوں کہ پانچ مرلے کے ایسے گھر میں ڈیڑھ کڑوڑ کا سامان جہیز دے کر بھیج رہا ہے جہاں پہلے ہی دو شادی شدہ بیٹے رہتے ہیں اور ایک والدین رہتے ہیں ایک یہ خود ۔ ٹرائل کورٹ نے یہ مانا پہلے قدم پے میں ان کو اس سے باہر لے کر آیایہ بات دوران شہادت مداعیہ نے بھی مانی اور مداعیہ نے مانے کے بعد کہ ہاں ہم پانچ مرلے کے گھر میں رہتےہیں اور اتنے ہی نفوس رہتے ہیں ہاں یہ تین سے چار مرلے کے گھر میں رہتے ہیں اور اتنے ہی نفوس رہتے ہیں تو پھر وہ ڈیڑھ کڑوڑ کا جو سامان جہیز تھاوہ کہاں گیا؟یہ بھی کہتی ہے کہ مجھے رہنے کو ایک کمرہ ملا تھا، یہ بھی کہتی ہے کہ وہاں سٹور روم کوئی نہیں تھا، یہ بھی کہتی ہے وہاں پے ڈرائنگ روم کوئی نہیں تھا ۔ جس گھر کا ڈرائنگ روم نہیں ہے جس گھر کا سٹور روم نہیں ہے ڈیڑھ کڑوڑ کا سامان جہیز وہاں پے کیسے آسکتا ہے؟ اب بات یہاں پے بھی نہیں رکی ایک تو میں نے یہ سیٹ کردیاپھر میں نے جو منسو خی کی کاروائی ہوتی ہیں اس میں میں نے ایک درخواست دی کہ میرا سائل حلفاََ کہنے کے لئے تیار ہے جو سامان جہیز کی فہرست اس نے لگا ئی ہے ساتھ پیش کی ہے عدالت میں اس کے علاوہ اسکے پاس سوئی بھی نہیں یا میرا حلف لے لیا جائے یا یہ بی بی آکر حلف دے دے کہ نہیں یہ سامان جہیز کی لسٹ جھوٹی ہے جو میری لسٹ ہے وہ سچی ہے ۔ جب یہ درخواست گئی وہ بھاگ گئے انھوں نے کہا جی ہمارا میرٹ پے فیصلہ کریں ،ہمارا میرٹ پے فیصلہ کریں ۔ ٹرائل کورٹ نے سامان جہیز کی حد تک کہہ دیا کہ جو فہرست شوہر نے دی وہ درست ہے لیکن حق مہر کی حد تک اس نے گھر جو ہے نہ ڈگری کردیا ۔ اب اس گھر کا کوئی وجود نہیں ہے میرا سائل کسی ایک انچ کا مالک نہیں تھا کوئی بات نہیں تھی ۔ وہ جس گھر کا ذکر تھا وہ تھا میرے باپ کا اور اس میں سارا کنبہ رہتا تھا ۔ ہم ایپلٹ کورٹ میں گئے ایپلٹ کورٹ نے ہماری بات کو مانا ۔ ماننے کے بعد سارا کچھ سلسلہ کار ہوا ۔ پھر ایک اہم موڑ آیاجو عدالتوں میں ہوتا ہے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرارہو گیا ۔ ہائی کورٹ میں گئے تو پھر ہائی کورٹ نے یہ مانا اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی اس پر بحث کی کہ نکاح نامے میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ یہ گھربطور گفٹ ملے گا یا یہ گھر بطور حق مہر ملے گا ۔ یہ سارا مقدمہ بتانے کی جو ضرورت پیش آئی آپ کووہ باخبر کہ آپ کو باخبر ہونا چاہیے، آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ کا کیس کیا ہے؟ اگر ایک کیس کیا جاتا ہے اور اس میں لاکھوں کڑوڑوں روپے مانگ لیا جاتا تو ایک دم ہاتھ پاءوں نہیں پھولنے چاہیے ۔ آپ کو اپنے حقائق کا بھی پتا ہونا چاہیے کہ میں سچا ہوں وہ جھوٹا ہے یا میں سچی ہوں اور وہ جھوٹا ہے ۔ اس کو ثابت کرنے کے لئے آپ کو تمام حقائق اپنے وکیل صاحب کو بتا نے چاہیے اور اچھا وکیل ان تمام حقائق کو ذہن میں رکھ کر شہادت کرواتا ہے اور کرتا ہے جانج پڑتال اگر آپ نہیں بتائیں گے اگر آپ نہیں کریں گے تو نقصان آپ کا ہے ۔ کہنے کو تو ڈیڑھ کڑوڑ روپے کا سامان جہیز تھا، کہنے کو تو ایک کڑوڑ روپے کا گھر تھا یہ سارے معاملات تھے ۔ اب اس میں میں نے ایک اور چیز کو جیتا کیا ۔ اس نے مانگا تھا نان نفقہ وہ اپنے ثبوت پر مان گئی کہ میں اپنی مرضی سے اپنے والدین کے گھر گئی اور میں اپنی مرضی سے اس کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی جب ایک بیوی یہ کہے کہ میں نے اپنے شوہر کا گھر اپنی مرضی سے چھوڑامجھے اس نے نکالا نہیں اور میں اپنی مرضی سے واپس شوہر کے پاس نہیں جانا چاہتی تو قانون کہتا ہے کہ شوہر کے اوپر کوئی فرض نہیں ہے کہ وہ اس کو نان نفقہ مہیا کرئے ۔ شوہر کے اوپر نان نفقہ مہیا کرنا تب ہے جب وہ اپنے ازدواجی ذمہ داریاں ازدواجی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہو ۔ -1 شوہر نے بلاوجہ بلا جوازاسے مارپیٹ کے یا زبردستی اپنے گھر سے نکا ل دیا ہو اور وہ مجبوراََ اپنے ماں باپ -2 کے گھر رہ رہی ہو اور اس کا یہ موقف ہو کہ میں ازدواجی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے تیا ر ہوں لیکن شوہر میرا جھگڑالو ہے شوہر میراظالم ہے وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں بسا رہاکیونکہ میں اس کے نکاح میں ہوں اسلئے نان نفقہ دینا اس کی ذمہ داری ہے عدالت کہے گی بالکل درست نان نفقہ دینا اس کی ذمہ داری ہے اور وہ اس کو ادا کروائے گی ۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.