LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk

راضی نامے پر واپس لیا گیا دعویٰ دوبارہ نہیں کیا جاسکتا

By Super Admin
راضی نامے پر واپس لیا گیا دعویٰ دوبارہ نہیں کیا جاسکتا

آپ کو ایک مقدمے کی تاریخ بتاتا ہوں اور قانونی طور پر آپ کو کیا کیا حقوق حاصل ہیں ؟ اور اس کے تناظر میں آپ طویل عرصے کی قانونی چارہ جوئی سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ ایک فیملی تھی اے اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اے فوت ہوگیا دو بیٹے دو بیٹیاں اور ایک بیوہ بچ گئیں ۔ ایک ٹکڑا تھا بیس کنال کا کمرشل ہوگیا اس ٹکڑے میں سے دس کنال پراپرٹی جو ہے وہ مرنے والے نے اپنے ایک بیٹے کو بیچ دی ہوئی تھی مختلف رجسٹریاں کرکے دو دو کنال کی کنال کی دس مرلے کی ایسے کر کے دس کنال زمین اپنے ایک بیٹے کو بیچ دی اور دس کنال باقی جو ہے وہ دو بیٹے دو بیٹیاں اور ایک بیوہ میں تقسیم ہونی تھی ۔ اب ایک بیٹی اُٹھی اس نے دعویٰ دائر کردیا کہ یہ سیل ڈیڈ جو ایک بیٹے کے نام ہوئی ہیں ان کو منسوخ کیا جائے یہ فراڈسے بنی دستاویز ہے بنایا گیا دستاویز ہے یہ ہمارے باپ نے اس کو نہیں بیچی ۔ اب دوسری بیٹی کو بھی پتا تھا کہ یہ ایک بھائی نے خرید کی ہے اپنے باپ سے ہمارے باپ سے دوسرے بھائی کو بھی پتا تھا ماں کو بھی پتا تھا ۔ اب اس نے دعویٰ دائر کردیا دستاویز کی منسوخی کاٹیکنکل بنیاد پے کہ یہ مختار نامہ بنا تھا یہ اس مختار نامے کے ذریعے ہوا یہ معاملا ہوا ۔ وہ دعویٰ تقریباََ ایک سال چلا اور ایک سال بعد والدہ نے تمام بہن بھائیوں میں تصویا کروادیا ۔ تصویا کروانے کے بعد انھوں نے اپنے اس بیٹے کو اپنی والدہ ہونے کے ناطے کہ میں اس کی والدہ ہوں اس پر دباءو دیا دباءو دینے کے بعد اس نے کہا کہ پانچ کنال تم رکھ لو پانچ کنال جو ہے وہ برابرا تقسیم ہوجائے وراثتی حصے کے مطابق تم دو بھائیوں میں اور تم دو بہنوں میں اور میں اپنے حق سے دستبردار ہوتی ہوں ۔ میں اپنے حق سے دستبردار ہوتی ہوں بیٹے کو جذباتی طور پر جذباتی کیا اور جذباتی کرنے کے بعد ایک راضی نامہ لکھا گیا ۔ اب اس بہن کا جو شوہر تھا وہ تھا شرارتی اب جب یہ معاہدہ ہوگیا تو اس معاہدے میں شرارتََ زبردستی ایک شق لکھوائی گئی کہ یہ پندرہ کنال جو ٹکڑا ہے جب بھی بیچا جائے گا اکٹھا بیچا جائے گاغیر قانونی شق تھی غیر آئینی تھی بنیادی حقوق کے خلاف تھی کہ اگر میں ایک چیز کا مالک ہوں تو مجھے حق حاصل ہے خود بیچوں نہ بیچوں رکھوں جو بھی صورت حال ہے لیکن تمام پارٹیز نے اس معاہدے کو تسلیم کیا اس معاہدے کی بنیاد پے وہ دعویٰ خارج ہوگیا ۔ اس معاہدے کی بنیاد پے وہ دعویٰ خارج ہوگیا اور وہ معاہدہ عدالت میں پیش ہوا اورایگزیبٹ سی1 لگا اور جب یہ دعویٰ واپس لیا گیا تو وہ غیر مشروط واپس لیا گیا کوئی اجازت دوبارہ دائر کرنے کی نہیں لی گئی بلکہ عدالت نے تمام پارٹیز کو باءونڈ کردیا کہ اس معاہدے ،ایگزیبٹ سی1کے تمام پابند ہیں اور اس کی پابندی کی جائے ۔ اب وہ معاہدہ ہونے کے بعدبیٹے نے بیٹا دو بیٹے اور ایک بیٹی یعنی کہ دو بھائیوں نے اور ایک بہن نے اپنی پراپرٹی بیچنا چاہی دوسری بہن یا اسکا میاں آڑے آگیا وہ بیچنے کے لئے رضامند نہ ہوا لگا ریٹ لگا بیچنے لگے ہیں معاہدہ کرنے لگے ہیں اس نے کہا جی میں نے نہیں بیچنامعاہدہ آڑے آگیا کرتے کرتے اس سارے سلسلے میں دو سال گزر گئے ۔ دو سال گزرنے کے بعد ایک بھائی نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر میں عدالت میں جارہا ہوں اگر آپ اس چیزسے پیچھے نہیں ہٹتے ہ میں بلیک میل کریں گے تو میں عدالت میں جاءوں گا اور اس پر عمل درآمدکرواءونگا تو یہ بات ہوئی تو اس بہن نے ڈیٹو کاپی جو دعویٰ دائر کیا تھا وہی دعویٰ دائر کر کے اس میں ایک پیراگراف شامل کر کے کہ جی یہ معاہدے کی تکمیل نہیں کر رہے اس معاہدے کے پابند نہیں ہو رہے اس معاہدے کے تحت جو شرائط ہیں ان کو پورا نہیں کررہے اور دعویٰ دائر کردیا اب وہ پریشان حالت میں میرے پاس آئے کہ جناب یہ پھر دعویٰ دائر ہوگیا ہے پھر اب دو چار سال لگیں گے یہ کیا معاملات ہے ہ میں تو کچھ سمجھ نہیں آرہی میں نے اس کو پڑھا دعوے کو میں نے کہا آپ متمعین رہیں نہ اس میں سٹیے رہے گا اور نہ یہ دعویٰ رہے گا ۔ کیونکہ سول طریقہ کار عدالت کا آرڈر23 ، رُول3، سب رُول1 بہت صاف ہے اس بارے میں کہ ایک دعویٰ آپ نے دائر کیا دائر کرنے کے بعدآپ کی صلع ہوگئی ۔ صلع نامہ ، راضی نامہ یا اقرار نامہ لکھا گیا ۔ اقرار نامہ ایگزیبٹ ہوگیا تو وہ دعویٰ غیر مشروط واپس لے لیا گیا کہ اس معاہدے کی شرائط کے پابند ہیں سارے تو دوبارہ پرانے کاروائی کی وجہ پے دعویٰ دائر نہیں ہوسکتا ۔ قانون کہتا ہے کہ یہ ماضی اور بند ٹرنزیکشن ہوگئی ہے اس کے بارے میں اپنے حقوق خارج کرلیے گئے ہیں ۔ اس کے بارے میں معاملہ مشتعل نہیں ہوسکتا ۔ یہ سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا یہ ہائی کورٹ نے بھی کہہ دیا اور بے شمار دفعہ کہا ۔ جب یہ سلسلہ کار قانونی حیثیت سامنے آئی میں نے اس کا جواب دعویٰ لکھا اور اس میں یہ نہیں کہ قانون یہ کہتا ہے میں نے کہا یہ نہیں میں نے ساری صورت حال لکھیں ۔ میں کہا جناب ہم بیچنا چاہتے ہیں یہ مشکلات پید کر رہے ہیں ہم آج بھی کہتے ہیں یہ اپنا گاہگ لے آئیں ہم بیچ رہے ہیں ہم ان کی اطاعت کریں گے پھر میں نے آرڈر 7 رُول 11کی ساتھ درخواست دی یہ دعویٰ قانونی طور پر نہیں چل سکتا یہ قانونی پابندی ہے اس کے اوپر دوبارہ دائر کرنے کی اس کو خارج کیا جائے ۔ پھر عدالت کو جب اس پوائنٹ پے متمعین کیا گیا کہ یہ اس کا دعوی دیکھ لیں یہ اس کا سابقہ دعویٰ ہے دونوں کی اپیل دیکھ لیں ایک جیسی ہے دونوں کے کاروائی کی وجہ دیکھ لیں ایک جیسی ہے سارا کچھ ہے ۔ محض ایک پیرا گراف لکھ دینے سے کہ یہ اس اقرار نامے کی پابندی نہیں کر رہے یہ دوبارہ دعویٰ دائر نہیں کرسکتے ۔ عدالت نے اس چیز کو تسلیم کیاقانون کی پابندی کو انھوں نے تاخیر کرنے کی کوشش کی عدالت نے ان کو دیا گیا سٹیے خارج کر لیا اور دیا گیا سٹیے خارج کرنے کے بعد7-11 کا جواب مانگا گیا جواب مانگنے کے بعد عدالت نے وہ دعویٰ خارج کیا ۔ انھوں نے اپیل دائر کی انکی اپیل خارج ہوئی انھوں نے ہائی کورٹ کا دروازاہ کھٹکھٹایا ہائی کورٹ نے بھی شنٹی کی کہ جب ایک چیز مکمل طور پر بند ہوچکی ہے اور بند بھی آپ خود اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں سارے مل کے آپ اس کو دوبارہ نہیں کھول سکتے ۔ آپ اس معاہدے کو مان رہے ہیں اس لئے اس معاہدے کو ماننا تمام پارٹیز کی ذمہ داری ہے آپ کے پاس پرانے کاروائی کی وجہ پرانے بنائے دعوئے پے دعویٰ دائر کرنے کا کوئی اختیار نہیں ۔ آپ کے پاس اختیار یہ ہے کہ اس معاہدے کو مخصوص کارکردگی کا دعویٰ کروانے کا دعویٰ دائر کرسکتے ہیں کہ جناب آپ کی عدالت میں یہ معاہدہ ہوا تھا یہ مخصوص کارکردگی نہیں کررہے اس کی کارکردگی کروائی جائے یا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جناب یہ آرڈر پاس ہوا تھا یہ جان بوجھ کے اس آرڈر کی خلاف ورزی کررہے ہیں ان کو توہین عدالت کے چارج میں رکھا جائے کیونکہ یہ جان بوجھ کے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کررہے ہیں آپ کے پاس ان دو فورم کے علاوہ کوئی فورم نہیں ہے اسلئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جب کوئی دعویٰ صلع کی بنیاد پے تحریری طور پر اقرار نامہ کہ شکل میں واپس لیا جاتا ہے تو دوبارہ اس کاروائی کی وجہ پے آپ ہ دعویٰ دائر نہیں کرسکتے اس معاہدے کے خلاف آپ کرسکتے ہیں تو مخصوص کاردگی کا دعویٰ دائر کرسکتے ہیں یاتوہین عدالت کی پٹیشن فائل کرسکتے ہیں اور اگر آپ دوسری سائیڈ پے ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ یہ رجسٹریاں جالی بنائی گئی ہیں لیکن والدہ نے دباءو ڈالا ہے ہم اس سے پچھلا مرحلے آگئے ہم نے کہا ٹھیک ہے جی آپ نے جو معاہدہ کردیا ہم اس پے پابند ہیں تو پھر آپ عدالت سے کہیں کہ جناب اگر اس معاہدے پے انھوں نے عمل درآمد نہ کیا توہ میں یہ اختیار دیا جائے کہ ہم اسی کاروائی کی وجہ میں دوبارہ دعویٰ دائر کرلیں حد کی مشروط ۔ حد کی مشروط کا مطلب یہ ہے کہ ایک دعویٰ انھوں نے دائر کیا سال چلا سال بعد معاہدہ ہوا معاہدہ ہونے کے بعد وہ دعویٰ خارج ہوگیا آپ نے اجازت بھی لے لی حقائق فائل کرنے کی اگر یہ نہیں کرینگے پورا تو میں انہی کاروائی کی وجہ پے میرا مضبوط کاروائی کی وجہ ہے میرے پاس ثبوت موجود ہیں میں نے تو اپنی والدہ کے کہنے پے پچھلا مرحلہ کیا اگر یہ پورا نہیں کرتے تو مجھے دوبارہ دعویٰ دائر کرنے کا حق دیا جائے حد کی مشروط کا مطلب یہ ہے کہ حدود میں رہتے ہوئے ایک دعویٰ دائر کرنے کی اگر حد تین سال ہے ایک سال وہ گزار چکے اب ایک سال گزارنے کے بعد معاہدہ ہوگیا تو وہ دو سال تک خاموش بیٹھا رہا اور چوتھے سال میں آکے کہا جی کہ یہ میرا آرڈر میرا ہوا تھا اسلئے مجھے جو ہے نہ وہ مجھے دعویٰ دائر کرنے کا حق دیا جائے توپھر دعویٰ دائر کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ عدالت کہے گی کہ پہلے مہینے اس نے انکار کیا تم کیوں نہیں آئے دوسرے مہینے اس نے انکار کیا تم کیوں نہیں آئے جب تک ایک سال گیاروے مہینے بھی تمھیں انکار کیا تم کیوں نہیں آئے تم پورے دوسال گزارنے کے بعد آئے جبکہ حد گزرچکی تھی مقدمہ دائر کرنے کی حد ختم ہوچکی تھی تو پھر تم کیوں آئے ۔ تم دو سال تک کیوں سوئے رہے اسلئے میری آپ سے بڑی مودبانہ گزارش ہے اگر آپ حق پے ہیں اور سچے ہیں تو میں نے جو یہ باتیں بتائی ہیں ان کو ذہن نشین رکھیں اور جب بھی ایسا کوئی معاملہ ہو تو آپ اپنے وکیل صاحب کو اس بارے میں آپ خود بتائیں قانون وہ خود ہی ڈھونڈلیں گے ۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.