LawyersOnline.pkLawyersOnline.pk

اگر نابالغ بچوں کا ارتکاب قتل (1)

By Super Admin
اگر نابالغ بچوں کا ارتکاب قتل (1)

یہ جو میں آج آپ کو لیکچر دینے جارہا ہوں یہ کافی معلوماتی ہے آپ کے لئے اور کوشش کروں گا مستقبل میں بچوں کے معاملے میں کوئی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور یہ ان بچوں کے بارے میں ہے جو جن سے جرم سرزد ہوجاتا ہے ۔ میں ان بچوں کو ملزم کہنا پسند نہیں کروں گا ذاتی طور پر میں ان کو کہوں گا معصوم قانون کی خلاف ورزی کرنے والے میں ملزم نہیں کہوں گا ملزم کہنا نہیں بنتا کیونکہ بچوں کی ذہنی نشو ونما ہورہی ہوتی ہے اگر وہ بیچارہ غلط صحبت میں چلا گیا ہے تو معاشرے کے اور ریاست کا فرض ہے کہ اس کو اچھی صحبت دے ۔ اگر اس کے ماں باپ جرائم پیشہ ہیں تو ریاست کا فرض ہے کہ اس بچے کی حفاظت کرئے اس بچے کو ایسا ماحول دے کہ جس میں ذہنی پرورش جو ہے مثبت طریقے میں ہو نہ کہ منفی طریقے میں ہو ۔ بچے اگر جرم کرتے ہیں تو جوانائل انصاف سسٹم آرڈیننس 2000 ان کو ڈیل کرتا ہے اب بچہ کسے کہتے ہیں بچہ کہتے ہیں کہ جس کی عمر اٹھارہ سال نہ ہوئی ہواس کو بچہ کہیں گے پوسٹل انسٹیٹیوٹ کسے کہتے ہیں ؟ ایسا انسٹیٹیوٹ یا ایسی حوالات یا ایسی حراستگاہ جس میں بچوں کو جنھوں نے کوئی جرم سر زد کیا ہے ہوتا ہے رکھا جاتا ہے اور جہاں پے ان کی فلاح کے ان کی ذہنی افسودگی کے معاملات دیکھتے ہوئے ان کی ذہنی پرورش مثبت طریقے میں کی جاتی ہے اور ان بچوں کا احساس دیکھا جاتا ہے کہ ان کا احساس ،جرائم، جرمی کی طرف جارہا ہے یا مثبیت کی طرف جارہا سولائزیشن کی طرف جارہا وہ دیکھتے ہیں کہ اس کا ذہن سولائزیشن کی طرف جارہا ہے تو جس کا مطلب بولوں گا اس سے یہ جرم سرزد ہوگیا اور اگرجرائم کی طرف جاتا ہے جرمی کی طرف جاتا ہے تو سابقہ مجرمانہ کی طرف جاتا ہے کہ جب بھی کوئی مثبت بات ہو اس میں سے منفی پہلومثبت احساس میں لے تو پھر اس کا مطلب ہے اس کی ذہنی پرورش کی مثبت احساس میں ضرورت ہے کہ مثبت احساس میں اس کی ذہنی پرورش ہونی چاہیے ۔ یہ پوسٹل انسٹیٹیوٹ کی ذمہ داریاں ہیں ۔ اب جو اس میں پروہبیشن ڈیل کرتی ہے پروہبیشن کا مطلب ایسی مدت جس میں اس بچے کی اصلاح کی جاسکے ۔ 1960 کے نفاست آرڈیننس کی پروہبیشن اس کو ڈیل کرتا ہے ۔ اب اگر کسی بچے سے جرم سر زد ہوگیا ہے میں مانتا ہی نہیں کہ بچہ خود جرم کرئے جو مرضی حالات ہوں میں نہیں مانتا کہ بچہ خود جرم کرئے ۔ بچے کو حالات جرم کرنے پر مجبور کرتے ہیں ، بچے سے حالات جرم کرواتے ہیں ، بچے سے ماحول جرم کرواتا ہے اور ہماری بطور بڑے یہ ذمہ داری ہے کہ بچے کی پرورش اس نج پے کی جائے کہ وہ جرائم کی طرف نا صرف جانے سے منہ موڑ لے بلکہ ان جرائم کا ادراک رکھے مثبت احساس میں کہ یہ کام کرنا غلط ہے ۔ اب اگر خُدا نہ خواستہ کسی بچے سے کوئی جرم سر زد ہوجاتا ہے تو ریاست کی پہلی ذمہ داری ہے کہ اس کو قانونی امداد فراہم کرئے ۔ یہ پہلی ذمہ داری ہے کہ اس کو وکیل مہیا کرئے اور وکیل وہ ہونا چاہیے جس کی وکالت کم از کم پانچ سال ہوگئی ہو ۔ پانچ سال سے کم وکالت والا وکیل نہیں دیا جائےگا نہیں تو وہ نیم حکیم ہوگا اول تو میں کہتاہوں دس سال پلس والا دینا چاہیے تاکہ وہ بالکل وضاحت کے ساتھ اس عمل سے گزرے ۔ اب تیسرا عنصر آگیا کہ بچے کی عمر کا تعین کیسے کیا جائے گا ؟کہ یہ بچہ اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہے یہ کیسے عدالت جو ہے تعین کرئے گی؟ 1- پیدائش کا سرٹیفکیٹ جسے جنم پرچی کہا جاتا ہے جسے پنجابی میں جمن پرچی کہا جاتا ہے ۔ 2- ب فارم 3- سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ 4- میڈیکل ٹیسٹ 1- اب سب سے پہلے جو پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہے جنم پرچی ہے ۔ اس پر عدالت غور کرئے گی اگر تو وہ وقت میں یعنی کے ایک بچہ ہے سولہ سال کا ۔ سولہ سال پہلے ہی اس کا اندراج ہوا ہے کہ یہ اس دن پیداہوا ہے یا بارہ سال کا ہے تو بارہ سال پہلے ہی ریکارڈ میں اندراج ہوا ہے کہ یہ اس دن پیدا ہوا ہے تو وہ جنم پرچی وہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ وہ جمن پرچی جو ہے وہ پوری صداقت رکھے گی لیکن اگر کورٹ کے سامنے ساتھ ایسی دستاویزپیش کر دیا جاتا ہے جنم پرچی، جمن پرچی یا پیدائش کا سرٹیفکیٹ کی شکل میں کہ جس کا اندراج اس وقوعے کے ہونے کے بعد کروایا گیا ہوجاکے تو پھر عدالت اس کو نہیں مانے گی ۔ پھر 2- دوسرا مرحلہ آگیا ب فارم ۔ اب ب فارم میں بھی یہی ڈبل ٹیسٹ ہوگا اسی کسوٹی میں ہی عدالت پرکھے گی کہ یہ ب فارم بنا کب؟ اگر تو ب فارم بنا ہے پیدائش کے نارمل عرصے کے دوران وہ نارمل عرصہ جو ہے وہ تین سے چار سال تک ہوتا ہے اس کے بعد وہ نارمل عرصے میں نہیں گنا جاتا ۔ 3- اب ب فارم کے بعدپھرسکو ل چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ اب سکو ل چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ میں جو آپ پیدائش کی تاریخ لکھواتے ہیں اس کو تنازعہ کیا جاسکتا ہے سال آگے سال پیچھے ۔ اگر اس کی بنتی ہے ساڑھے سترہ سال تو سکو ل چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ کو غور نہیں کیا جائے گا ۔ پھر -4 میڈیکل ٹیسٹ عدالت جب ان چیزوں میں عظمت آجائے گی کہ پیدائش کی سرٹیفکیٹ ، ب فارم، سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ ان چیزوں میں بگواس ہوجائے گی عدالت واضع طور پے وضاحت کرنے کے قابل نہیں ہوگی کہ بچے کی عمر کیا ہے ؟تو پھر اسکا میڈیکل ٹیسٹ ہوگا اسکو کہتے ہیں اوسفیکیشن ٹیسٹ ،اوسفیکیشن ٹیسٹ میں پھر اس کی عمر کا تعین کیا جائے گا ۔ اب اوسفیکیشن ٹیسٹ میں بھی ایک عمر رکھی ہے کہ ایک سال کی تصدیق ہو سکتی ہے ۔ ایک سال زائد بھی ہو سکتا ہے ایک سال کم بھی ہوسکتا ہے لیکن کم کی کنڈینسی کو مانا جائے گا ۔ اب اوسفیکیشن ٹیسٹ میں اس بچے کی عمر آجاتی ہے کہ وہ اٹھارہ سال سے کم ہے تو عدالت ڈیوٹی بانڈ ہوگی کہ اس کو جووینئیل غور کرئے ۔ یہ سارا کام چالان جمع ہونے کے بعدایک ایف آئی آر ہوئی ۔ ایف آئی آر ہونے کے بعد بچہ گرفتار ہوا ۔ گرفتار ہونے کے بعد چالان بنا ۔ چالان بنے کے بعد اس کو عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت میں پیش کرنے کے بعد عدالت نے اسکی وضاحت کی ۔ وضاحت کرنے کے بعد اس کو جووینئیل ڈیکلئر کیا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جب مثلاََ ایک جرم ہے ایک جرم ہے ۔ بچے کے ساتھ دو بڑے بھی ہیں قانون کہتا ہے چالان ان کا اکٹھا ہی جمع ہونا ہے بچے کا اور بڑوں کا چالان اکٹھا ہی پیش ہونا ہے ۔ پیش ہونے کے بعد عدالت جووینئیل ، ڈیکلیئر کرنے کے بعداس بچے کا مقدمہ ان بڑے لوگوں سے علیحدہ کردے گی ۔ قانون کہتا ہے جووینئیل بچے کو جووینئیل کہتے ہیں جووینئیل کا ٹرائل ، جووینئیل کے مقدمے کی سماعت بالغ ملزموں کے ساتھ نہیں ہوگی اسکی علیحدہ ہوگی اسکی علیحدہ ہوگی ۔ اب آگے معاملا آگیا گرفتاری کا کوئی جوائن ٹرائل نہیں آپ کے سامنے آگیاعمر کا عزم آپ کے سامنے آگیا ۔ اب جووینئیل کورٹ جب بنے گی تو اس وقت جس دن اس کاٹرائل ہوگاصرف جووینئیل کا ہوگاکوئی اور ٹرائل نہیں ہوگا ۔ اس کا متمائے نظر کیاہے؟اس کا متمائے نظر یہ کہ بچہ معصوم پر غور کیا جاتاہے ۔ میں نے آپ سے کہا معصوم قانون توڑنے والا اگر معصومیت میں اس سے جرم سرزد ہوچکا ہے تو پھر اس کو پبلک نہ کیا جائے ۔ اس کے مقدمے کی کاروائی پبلک نہیں کی جائے گی ۔ کسی میڈیا کو پرنٹ ہو ، الیکٹرونک ہو، سوشل ہو ۔ اس کورٹ کی کوئی کاروائی جو جووینئیل سسٹم کے تحت چل رہی ہے وہ پبلک نہیں ہوگی ۔ جب اس کا ٹرائل چل رہا ہوگاتو غیر متعلقہ شخص اس کورٹ روم میں نہیں ہوگا ۔ اب واپس اپنے نقطے پر آتے ہیں جب اس بچے کو گرفتار کیا جاتا ہے تو پولیس کے اوپر کیا ذمہ داریاں ہیں ۔ سیکشن 10 جووینئیل نظام انصاف2000 بچے کو جونہی پولیس گرفتار کرئے گی تو سب سے پہلے اس کے گائیڈین کو مطلع کرئے گی ۔ اسکا گائیڈین اس کا باپ بھی ہوسکتا ہے اسکا گائیڈین اس کی ماں بھی ہوسکتی ہے اسکا گائیڈین وہ بھی ہوسکتا ہے جسے کورٹ نے مقرر کیا ہے ۔ فوری طور پر اس کو اطلاع کرئے گی کہ اس بچے نے یہ جرم کیایہ ہماری حراست میں ہے اور اس کو مطلع کرئے گی گائیڈین کو کہ فلاں وقت کو، فلاں تاریخ کو ، فلاں عدالت میں اس کو پیش کیاجائے گا اور اس کے ساتھ ہی پروہبیشن آفیسرکو بھی وارن کرئے گی پولیس کہ بھئی اس بچے کے بارے میں اس مدت تک جب تک عدالت میں اس کو پیش کیا جانا ہے تمام معلومات اکٹھی کرلو عدالت میں پیش کی جائیں گی اور وہ پروہبیشن آفیسر ڈیوٹی بانڈہوگا کہ وہ تمام معلومات عدالت میں پیش کرئے کہ یہ بچہ کہاں کا رہنے والا ہے ، یہ بچے کی عمر کیاہے؟،یہ بچہ کرتا کیا ہے؟،اس بچے کے والدین کیا کرتے ہیں ؟، اس فیملی کی رجحانات کیا ہے؟، کیا اس کی فیملی جرائم پیشہ ہے ؟ ، کیا اس بچے نے پہلے بھی جرم کیا ہے؟،کیا یہ جس ماحول میں پل رہا ہے اس میں جرائم پیشہ لوگوں کا عمل دخل زیادہ ہے، جس ماحول میں یہ پنپ رہا ہے وہاں پے منفی سوچ زیادہ ہے، جس ماحول میں یہ پنپ رہا ہے وہاں پے جرائم کی طرف رغبت زیادہ ہے یا جس ماحول میں وہ پنپ رہا ہے یا جس ماحول میں وہ اپنی پرورش پا رہا ہے اس ماحول میں جرائم کے ذریعے پیسہ کماناکاروبار سمجھا جاتا ہے یا ان تمام چیزوں کے منفی نہیں نہیں نہیں یہ بچہ معصوم ہے اس کی پرورش بھی معصوم ہے یہ غلط سوساءٹی میں باہر بیٹھ رہا تھاجس کی وجہ سے یہ ہوگیاجو بھی صورت حال وہ مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرئے گا ۔

Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts.