ریمانڈ (1)
سوال: گرفتاری مقدمے کے اندراج کے بعد کیسے ہوتی ہے اور گرفتاری کے بعدجسمانی ریمانڈ کیسے ہوتا ہے؟اورجسمانی ریمانڈ کن کن صورتوں میں دیا جانا چاہیے اور کن کن صورتوں میں نہیں دیا جانا چاہیے؟
حل: ایف آئی آر154سی آر پی سی کے تحت درج ہوتی ہے ۔ کوئی شخص آکے قابل دست اندازی جرم کے سرزد ہونے کی اطلاع دے خواہ وہ زبانی دے خواہ وہ تحریری دے زبانی دے گا تو پولیس آفیسرڈیوٹی پابند ہے کہ اس کو تحریر کرنے کے بعد اس کے دستخط یا انگوٹھا اسکے اوپر لگوائے گا تحریری دے گا تو وہ دینے والے کا سائن شدہ ہوگا اور وہ ڈیوٹی باءونڈ ہے کہ جب وہ قابل دست اندازی جرم کے سرزد ہونے کی اطلاع انچارج پولیس اسٹیشن کو ملے گی علاقہ پولیس کو ملے گی تو انچارج پولیس اسٹیشن پابند ہے کہ وہ مقدمہ درج رجسٹر کرئے 154ضابطہ فوجداری کے تحت ۔
اب جب وہ مقدمہ درج ہوجاتا ہے تو پھر بغرض تفتیش ۶۵۱ کے تحت وہ تحریری استغاثہ اورایف آئی آر تفتیشی ونگ میں بجھوادی جاتی ہے انچارج تفتیشی سیل کو بجھوادی جاتی ہے ۔ انچارج تفتیشی سیل کے تحت ایک پوری ٹیم کام کر رہی ہوتی ہے وہ چاہیے تو تفتیش کو اپنے پاس رکھ لے یا وہ اپنے دیگر افسر کو تفویز کردے اب مقدمہ درج رجسٹر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ علاقہ پولیس یا تفتیشی افسرجو ہے وہ اس ملز م کے گھر میں ریٹ کرنا شروع کردے گرفتار کرنے کے لئے تحرک شروع کردے اس کے گھروں سے سامان اُٹھا کے لے آئے مویشی اٹھا کے لے آئے قعتا اس کا مطلب یہ نہیں تفتیشی افسر قانونی طور پر اس چیز کا پابند ہے کہ جب تحریر ی استغاثہ اور ایف آئی آر اس کے پاس آتی ہے تووہ اس کے سچا ہونے کے بارے میں تفتیش کرئے اس کے سچے ہونے کے بارے میں تفتیش کرئے وہ موقع پر جائے موقع پر جاکر شہاتوں کو اکٹھا کرئے ۔ مدعی اور مدعی کے گواہان کا موقف لے موقف کی تصدیق کرئے تصدیق کرنے
کے بعدصفحہ مثل پر اگر ایسے حقائق آچکے ہیں کہ جن کی موجودگی میں ملز م کا گرفتار کیا جانا بہت ضروری ہے تاکہ استغاثہ کے کیس کو نقصان نہ پہنچے تو وہ اس کی گرفتاری کا تحرک کرئے گا قانون یہ کہتا ہے ۔
اب یہ جب مشکل ساری دور ہوگئی تفتیشی آفسر کو یہ باور ہوگیا کہ ہاں اس ملزم نے جوکہ ایف آئی آر میں نامز ہے یا کوئی دیگر ملزم جس کو بعد میں بیان دینے کے بعد جس کو تتیمہ بیان کہتے ہیں شاید کسی کو نامزد کیا اور اسکے خلاف بھی کوئی ثبوت صفحہ مثل میں ثبوت مہیا ہیں کہ اس کو گرفتار کیا جائے تو وہ پھر تحرک کرتا ہے اس کو گرفتار کرنے کا میں صرف محدود رہوں گا اسی موضوع پے کہ پولیس والے اس ملزم کو گرفتار کرلیتے ہیں ۔ اب گرفتار کون کون کرسکتا ہے؟ کیا صرف پولیس والے ہی گرفتار کرسکتے ہیں ؟ کیا کوئی عام بندے کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ کسی کو گرفتار کرلیں ۔
95ضابطہ فوجداری عدالت مجرمانہ طریقہ کار ایک عام شخص کویہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو گرفتار کرسکتا ہے لیکن اسکے لئے یہ یقین کرنا بے حد ضروری ہے کہ وہ جس کو پکڑ رہا ہے وہ جس کو گرفتار کررہا ہے وہ اس نے واقعتا کوئی قابل دست اندازی جرم سرزد کیا ہے یا وہ کسی مقدمے کا اشتہاری ملزم ہے ۔ عام شخص بھی گرفتار کرسکتا ہے لیکن جونہی گرفتار کرئے گا تو اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں ؟ جونہی وہ گرفتار کرئے گا تو اس کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ اس کی اطلاع فوری طور پر بغیر کس تاخیر کے وہ علاقہ پولیس کو کرئے گا اور کوشش کرئے گا کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن جہاں پے مقدمہ ہوا ہے اسکی تحویل میں ان کے حوالے کردے یا ان کو بلا لے اور اگر متعلقہ پولیس اسٹیشن دور ہے
کئی دفعہ ہوتا ہے کہ لاہور میں مزنگ تھانے کی حدود میں ایک جرم ہوامجھے اس کا علم ہے میں بہاولپور میں پھر رہا ہوں اور مجھے پتا چلتا ہے کہ یہ شخص تو وہ شخص ہے جس نے وہ جرم کیا تھا ا سکے خلاف مقدمہ بھی درج رجسٹر ہے تو میں اس کو اسی وقت بہاولپور کی ریجن میں پکڑوں گا میں پولیس آفیسر نہیں ہوں میں پولیس آفیشل نہیں ہوں ۔ میں اس کو اسی وقت پکڑوں گا اور جہاں پکڑوں گا وہاں قریبی پولیس اسٹیشن میں لے جائونگا کہ یہ فلاں فلاں فلاں مقدمہ ہوا ہے فلاں تھانے میں یہ اس کا ملزم ہے یہ اشتہاری ہے یہ مفرور ہے تو اس کو بر قرار رکھا جائے وہ پھرآگے متعلقہ تھانے کو اطلاع کریں گے متعلقہ تھانہ یہاں سے اپنے تھانے سے روانگی ڈالے گا وہ اس کو پکڑ کے لے آئیں گے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اتنا آسان ہے کہ بہاولپور کی پولیس لاہور کی پولیس کو مطلع کرئے اور لاہور کی پولیس جا کے بہاولپور سے اس ملزم کو پکڑ لائے ان کی تحویل سے لے لے کیا یہ اتنا آسان ہے؟اگر تو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر کے معاملات ہیں تو پھر تو یہ کیا جاسکتا ہے لیکن اگر چوبیس گھنٹے کے اندر کے معاملات نہیں تو وہ پولیس اسٹیشن والے جو ہیں وہ اس کو بہاولپور میں اپنے متعلقہ مجسٹریٹ کے پاس پیش کرینگے وہ مجسٹریٹ اس کو راہداری کے لئے جیل میں بجھوادے گا جیل سے پھرمتعلقہ جس پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہوا ہے وہ جائیں گے سیشن جج بہاولپو ر کے پاس سیشن جج سے اجازت لیں گے سیشن جج سے اجازت کے لینے کے بعدپھر وہ جیل سے اس کی تحویل سے لیں گے تو پھر وہ جس وقت وہ اس کی تحویل میں لیں گے چوبیس گھنٹے کی ٹک ٹک شروع ہوگئی پھر وہ چوبیس گھنٹے میں کوشش کریں گے کہ اس کی تفتیش مکمل کرلیں ۔
اگر چوبیس گھنٹے میں تفتیش مکمل نہیں ہوتی وہ جسمانی تحویل چوبیس گھنٹے کے لئے اس پولیس آفسر کے پاس ہے اگر وہ کہتا ہے کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر تفتیش مکمل نہیں ہوئی اس ملزم کا جسم مجھے مزید تفتیش کے لئے درکار ہے تو وہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے پاس علاقہ مجسٹریٹ کے پاس پیش کرئے گا اس درخواست کے ساتھ اس تحریری درخواست کے ساتھ کہ اس کو ایسے ایسے ایسے گرفتار کیا گیا اس کی تفتیش مکمل نہیں ہوسکی اس مقدمے میں اسکی تفتیش ابھی مکمل ہونی ہے جس کے لئے مجھے اس کا جسمانی ریمانڈ چاہیے ان ان وجوہات کی بنا پے ۔
اگر جرم کی نوعیت ایسی ہے کہ جس کی وجہ سے برآمدگی جس کی وجہ سے استغاثہ کا کیس مضبوط ہو وہ شامل ہی نہیں ہے تو مجسٹریٹ فزیکل ریمانڈ نہیں دیتے کیونکہ انھیں یہ بتایا گیا ہے کہ آئینی ذمہ داریاں ہے ہر اس شخص پے کہ وہ کسی دیگر شخص کی آزدی کوکرٹیل نہیں کرسکتے ۔ مجسٹریٹ کے پاس چوبیس گھنٹے کے بعد جب اس کو پیش کیا جانا ہے تو تفتیشی افسر نے وہ تمام حقائق مجسٹریٹ کے سامنے رکھنے ہیں جس کی وجہ سے اس کا فزیکل ریمانڈ اس کو ملنا چاہیے ۔ اب مجسٹریٹ کے پاس گئے انھوں نے کہا جی کہ اس سے پستل برآمد ہونا ہے اس سے فوج دستاویز برآمد ہونا ہے اس سے اے برآمد ہونا ہے ، بی جو کچھ بھی ہے جو اس مقدمے کے معاملا ت ہیں مجسٹریٹ ان کو تین دن کے ریمانڈ جسمانی ریمانڈپے وہ پولیس کے حوالے کردیتا ہے اب یہاں ایک بات ذہن میں رکھئے فزیکل ریمانڈ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کو مار پیٹ کی جائے گی کسی بھی قسم کا جسمانی حملہ ایک جرم ہے یہ نہیں ہوسکتا یہ قانون کے تحت آپ کو اجازت نہیں ہے کسی بھی تفتیشی افسر کو کسی بھی پولیس آفیشل کو کہ وہ کسی بھی ملزم کو جو ان کے پاس جسمانی ریمانڈ پے ہے جسمانی ٹارچرکرئے ۔
Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts.