Urdu Articles
Legal articles in Urdu, covering a range of practice areas relevant to Pakistan.
332 results in General Articles · Clear filters

حذف کردیا گیا
فوجی عدالتوں یا ٹربیونلوں کا قیام ایس آراو نمبر1278(1) 85، مورخہ 30دسمبر1985ء کو مارشل لاء اٹھانے کے اعلان مورخہ 30دسمبر1985ء کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے دیکھئے جریدہ پاکستان، 1985ء غیر معمولی ، حصہ اول ، مورخہ 30دسمبر1985ء صفحات 431،432جس کا قبل ازیں فرمان صدر نمبر 21مجریہ 1979ء کے آرٹیکل 2 کے رو سے اضافہ کیا گیا تھا۔

انتظامی عدالتیں اور ٹربیونل
1۔ قبل ازیں مذکور کسی امر کے باوجود ، متعلقہ مقننہ ایکٹ کے ذریعے حسبِ ذیل کی نسبت بلا شرکت غیرے اختیار سماعت استعمال کرنے کے لئے ایک یا ایک سے زیادہ انتظامی عدالتیں یا ٹربیونل کے قیام کے لئے حکم وضع کرسکے گیــــــ (الف) ایسے اشخاص کی جو ملازمت پاکستان میں ہوں یا رہے ہوں شرائط ملازمت بشمول تادیہی امور سے متعلق امور؛ (ب) حکومت یا ملازمت پاکستان میں کسی شخص یا کسی ایسی مقامی یا دیگر ہیئت مجاز کے…

امتناع اختیار سماعت
کونسل کے روبرو کاروائی پر ، صدر کو ارسال کردہ اس کی رپورٹ پر اور آرٹیکل 209 کی شق (6) کے تحت کسی جج کی برطرفی پر کسی عدالت میں کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔

کونسل کا اشخاص وغیرہ کو حاضر ہونے کا حکم دینے کا اختیار
1۔ کونسل کو کسی معاملے کی تحقیقات کی غرض کے لئے وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو عدالتِ عظمیٰ کو کسی شخص کو حاضر عدالت کرانے کے لئے یا کسی دستاویز کی برآمدگی یا اس کو پیش کرنے کے لئے ہدایات یا احکام جاری کرنے کے لئے حاصل ہیں؛ اور کوئی ایسی ہدایت یا حکم اس طرح قابل نفاذ ہوگا گویا کہ وہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری ہوا ہو۔ 2۔ آرٹیکل 204کے احکام کا اطلاق کونسل پر اس طرح ہوگا جس طرح ان کا اطلاق عدالتِ…

اعلیٰ عدالتی کونسل
1۔ پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالتی کونسل ہوگی جس کا حوالہ اس باب میں کونسل کے طور پر دیاگیا ہے۔ 2۔ کونسل مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوگیــــــ (الف) چیف جسٹس پاکستان؛ (ب) عدالتی عظمیٰ کے دو مقدم ترین جج؛ اور (ج) عدالت ہائے عالیہ کے دو مقدم ترین چیف جسٹس۔ تشریح: اس شق کی غرض کے لئے عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹسوں کا باہم دیگر تقدم چیف جسٹس کے طور پر بجز بحیثیت قائم مقام چیف جسٹس ان کے تقرر کی تاریخوں کے…

عدالتوں کے عہدیدار اور ملازمین
عدالت عظمیٰ اور وفاقی شرعی عدالت ، صدر کی منظوری سے اور کوئی عدالت عالیہ ، متعلقہ گورنر کی منظوری سے ، عدالت کے عہدیداروں اور ملازمین کے تقرر اور اُن کی شرائط ملازمت کے بارے میں قواعد وضع کرسکے گی۔

جج کسی منفعت بخش عہدہ وغیرہ پر فائز نہیں ہوگا
1۔ عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی ججــــــ (الف) ملازمت پاکستان میں کوئی دیگر منفعت بخش عہدہ نہیں سنبھالے گا اگر اس کی وجہ سے اس کے مشاہرہ میں اضافہ ہوجائے ؛یا (ب) کسی دوسرے منصب پر فائز نہیں ہوگا جس میں خدمات انجام دینے کے عوض تنخواہ وصول کرنے کا حق ہو۔ 2۔ کوئی شخص جو عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے جج کے عہدہ پر فائز رہ چکا ہو، اس عہدہ کو چھوڑنے کے بعد دوسال گزرنے سے قبل، ملازمت…

استعفیٰ
1۔ عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی ہوسکے گا۔ 2۔ کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج جو عدالتِ عظمیٰ کے جج کی حیثیت سے تقرر قبول نہ کرئے اپنے عہدے سے فارغ الخدمت متصور ہوگا اور ایسی فارغ الخدمتی پر پنشن وصول کرنے کا حقدار ہوگا جس کا شمار جج کے طور پر اس کے عرصہ ملازمت اور ملازمت پاکستان میں کل ملازمت کی ، اگر کوئی ہو ، بنیاد پر کیا جائے گا۔

ججوں کا مشاہرہ وغیرہ
عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کا مشاہرہ اور دوسری شرائط ملازمت وہ ہوں گی جو جدول پنجم میں مذکور ہیں۔